صحیح مسلم - منافقین کی صفات اور ان کے احکام کا بیان - 7014
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ لِأَصْحَابِهِ لَا تُنْفِقُوا عَلَی مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّی يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ قَالَ زُهَيْرٌ وَهِيَ قِرَائَةُ مَنْ خَفَضَ حَوْلَهُ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِکَ فَأَرْسَلَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَسَأَلَهُ فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ فَقَالَ کَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوهُ شِدَّةٌ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقِي إِذَا جَائَکَ الْمُنَافِقُونَ قَالَ ثُمَّ دَعَاهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ قَالَ فَلَوَّوْا رُئُوسَهُمْ و قَوْله کَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ وَقَالَ کَانُوا رِجَالًا أَجْمَلَ شَيْئٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن بن موسیٰ زہیر بن معاویہ ابواسحاق حضرت زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ایک سفر میں نکلے جس میں لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہیں یہاں تک کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے جدا اور دور ہوجائیں زہیر نے کہا یہ قرأت اس کی قرأت ہے جس نے حولہ پڑھا ہے اور عبداللہ بن ابی نے یہ بھی کہا اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹے تو عزت والے مدینہ سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے پس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کی خبر دی پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ابی کو بلانے کے لئے بھیجا پھر اس سے پوچھا تو اس نے قسم کھا کر کہا میں نے ایسا نہیں کہا اور کہنے لگا کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جھوٹ کہا ہے کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی اس بات سے میرے دل میں بہت رنج اور دکھ واقع ہوا یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے میری تصدیق کے لئے یہ آیت نازل کی (اِذَا جَا ءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ ) 63 ۔ المنافقون : 1) کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس منافقین آئیں پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں بلوایا تاکہ ان کے لئے مغفرت طلب کریں لیکن انہوں نے اپنے سروں کر موڑ لیا (نہ آئے) اور پھر اللہ عزوجل کا قول (کَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ) گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں دیوار پر لگائی ہوئی انہیں کے بارے میں نازل ہوا حضرت زید نے کہا یہ لوگ بظاہر بہت اچھے اور خوبصورت معلوم ہوتے تھے۔
Top