Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (25310 - 25569)
Select Hadith
25310
25311
25312
25313
25314
25315
25316
25317
25318
25319
25320
25321
25322
25323
25324
25325
25326
25327
25328
25329
25330
25331
25332
25333
25334
25335
25336
25337
25338
25339
25340
25341
25342
25343
25344
25345
25346
25347
25348
25349
25350
25351
25352
25353
25354
25355
25356
25357
25358
25359
25360
25361
25362
25363
25364
25365
25366
25367
25368
25369
25370
25371
25372
25373
25374
25375
25376
25377
25378
25379
25380
25381
25382
25383
25384
25385
25386
25387
25388
25389
25390
25391
25392
25393
25394
25395
25396
25397
25398
25399
25400
25401
25402
25403
25404
25405
25406
25407
25408
25409
25410
25411
25412
25413
25414
25415
25416
25417
25418
25419
25420
25421
25422
25423
25424
25425
25426
25427
25428
25429
25430
25431
25432
25433
25434
25435
25436
25437
25438
25439
25440
25441
25442
25444
25445
25446
25447
25448
25449
25450
25451
25452
25453
25454
25455
25456
25457
25458
25459
25460
25461
25462
25463
25464
25465
25466
25467
25468
25469
25470
25471
25472
25473
25474
25475
25476
25477
25478
25479
25480
25481
25482
25483
25484
25485
25486
25487
25488
25489
25490
25491
25492
25493
25494
25495
25496
25497
25498
25499
25500
25501
25502
25503
25504
25505
25506
25507
25508
25509
25510
25511
25512
25513
25514
25515
25516
25517
25518
25519
25520
25521
25522
25523
25524
25525
25526
25527
25528
25529
25530
25531
25532
25533
25534
25535
25536
25537
25538
25539
25540
25541
25542
25543
25544
25545
25546
25547
25548
25549
25550
25551
25552
25553
25554
25555
25556
25557
25558
25559
25560
25561
25562
25563
25564
25565
25566
25567
25568
25569
مسند امام احمد - حضرت ام سلمہ کی مرویات - حدیث نمبر 22849
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ مَلِكٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَكَانَ لَهُ سَاحِرٌ فَلَمَّا كَبِرَ السَّاحِرُ قَالَ لِلْمَلِكِ إِنِّي قَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَحَضَرَ أَجَلِي فَادْفَعْ إِلَيَّ غُلَامًا فَلَأُعَلِّمُهُ السِّحْرَ فَدَفَعَ إِلَيْهِ غُلَامًا فَكَانَ يُعَلِّمُهُ السِّحْرَ وَكَانَ بَيْنَ السَّاحِرِ وَبَيْنَ الْمَلِكِ رَاهِبٌ فَأَتَى الْغُلَامُ عَلَى الرَّاهِبِ فَسَمِعَ مِنْ كَلَامِهِ فَأَعْجَبَهُ نَحْوُهُ وَكَلَامُهُ فَكَانَ إِذَا أَتَى السَّاحِرَ ضَرَبَهُ وَقَالَ مَا حَبَسَكَ وَإِذَا أَتَى أَهْلَهُ ضَرَبُوهُ وَقَالُوا مَا حَبَسَكَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى الرَّاهِبِ فَقَالَ إِذَا أَرَادَ السَّاحِرُ أَنْ يَضْرِبَكَ فَقُلْ حَبَسَنِي أَهْلِي وَإِذَا أَرَادَ أَهْلُكَ أَنْ يَضْرِبُوكَ فَقُلْ حَبَسَنِي السَّاحِرُ وَقَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَتَى ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى دَابَّةٍ فَظِيعَةٍ عَظِيمَةٍ وَقَدْ حَبَسَتْ النَّاسَ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَجُوزُوا فَقَالَ الْيَوْمَ أَعْلَمُ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَمْ أَمْرُ السَّاحِرِ فَأَخَذَ حَجَرًا فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَيْكَ وَأَرْضَى لَكَ مِنْ السَّاحِرِ فَاقْتُلْ هَذِهِ الدَّابَّةَ حَتَّى يَجُوزَ النَّاسُ وَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا وَمَضَى النَّاسُ فَأَخْبَرَ الرَّاهِبَ بِذَلِكَ فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ أَنْتَ أَفْضَلُ مِنِّي وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى فَإِنْ ابْتُلِيتَ فَلَا تَدُلَّ عَلَيَّ فَكَانَ الْغُلَامُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَسَائِرَ الْأَدْوَاءِ وَيَشْفِيهِمْ وَكَانَ جَلِيسٌ لِلْمَلِكِ فَعَمِيَ فَسَمِعَ بِهِ فَأَتَاهُ بِهَدَايَا كَثِيرَةٍ فَقَالَ اشْفِنِي وَلَكَ مَا هَاهُنَا أَجْمَعُ فَقَالَ مَا أَشْفِي أَنَا أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ أَنْتَ آمَنْتَ بِهِ فَدَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكَ فَآمَنَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ ثُمَّ أَتَى الْمَلِكَ فَجَلَسَ مِنْهُ نَحْوَ مَا كَانَ يَجْلِسُ فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ يَا فُلَانُ مَنْ رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ فَقَالَ رَبِّي قَالَ أَنَا قَالَ لَا لَكِنْ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ قَالَ أَوَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي قَالَ نَعَمْ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّهُ عَلَى الْغُلَامِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِكَ أَنْ تُبْرِئَ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَهَذِهِ الْأَدْوَاءَ قَالَ مَا أَشْفِي أَنَا أَحَدًا مَا يَشْفِي غَيْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَنَا قَالَ لَا قَالَ أَوَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي قَالَ نَعَمْ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ فَأَخَذَهُ أَيْضًا بِالْعَذَابِ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهِبِ فَأَتَى بِالرَّاهِبِ فَقَالَ ارْجِعْ عَنْ دِينِكِ فَأَبَى فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ وَقَالَ لِلْأَعْمَى ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبَى فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ لِلْغُلَامِ ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبَى فَبَعَثَ بِهِ مَعَ نَفَرٍ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ إِذَا بَلَغْتُمْ ذُرْوَتَهُ فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ وَإِلَّا فَدَهْدِهُوهُ مِنْ فَوْقِهِ فَذَهَبُوا بِهِ فَلَمَّا عَلَوْا بِهِ الْجَبَلَ قَالَ اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ فَرَجَفَ بِهِمْ الْجَبَلُ فَدُهْدِهُوا أَجْمَعُونَ وَجَاءَ الْغُلَامُ يَتَلَمَّسُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى الْمَلِكِ فَقَالَ مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ فَقَالَ كَفَانِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَبَعَثَهُ مَعَ نَفَرٍ فِي قُرْقُورٍ فَقَالَ إِذَا لَجَجْتُمْ بِهِ الْبَحْرَ فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ وَإِلَّا فَغَرِّقُوهُ فَلَجَّجُوا بِهِ الْبَحْرَ فَقَالَ الْغُلَامُ اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ فَغَرِقُوا أَجْمَعُونَ وَجَاءَ الْغُلَامُ يَتَلَمَّسُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى الْمَلِكِ فَقَالَ مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ قَالَ كَفَانِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَالَ لِلْمَلِكِ إِنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِي حَتَّى تَفْعَلَ مَا آمُرُكَ بِهِ فَإِنْ أَنْتَ فَعَلْتَ مَا آمُرُكَ بِهِ قَتَلْتَنِي وَإِلَّا فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ قَتْلِي قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ تَجْمَعُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ ثُمَّ تَصْلُبُنِي عَلَى جِذْعٍ فَتَأْخُذُ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِي ثُمَّ قُلْ بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ قَتَلْتَنِي فَفَعَلَ وَوَضَعَ السَّهْمَ فِي كَبِدِ قَوْسِهِ ثُمَّ رَمَى فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ فَوَضَعَ السَّهْمَ فِي صُدْغِهِ فَوَضَعَ الْغُلَامُ يَدَهُ عَلَى مَوْضِعِ السَّهْمِ وَمَاتَ فَقَالَ النَّاسُ آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ فَقِيلَ لِلْمَلِكِ أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ فَقَدْ وَاللَّهِ نَزَلَ بِكَ قَدْ آمَنَ النَّاسُ كُلُّهُمْ فَأَمَرَ بِأَفْوَاهِ السِّكَكِ فَخُدِّدَتْ فِيهَا الْأُخْدُودُ وَأُضْرِمَتْ فِيهَا النِّيرَانُ وَقَالَ مَنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ فَدَعُوهُ وَإِلَّا فَأَقْحِمُوهُ فِيهَا قَالَ فَكَانُوا يَتَعَادَوْنَ فِيهَا وَيَتَدَافَعُونَ فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا تُرْضِعُهُ فَكَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِي النَّارِ فَقَالَ الصَّبِيُّ يَا أُمَّهْ اصْبِرِي فَإِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ
حضرت صہیب ؓ کی حدیثیں
حضرت صہیب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلی (قوموں میں) ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میرا آخری وقت قریب آرہا ہے تو آپ میری پاس ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا دوں بادشاہ نے ایک لڑکا جادو سیکھنے کے لئے اس بوڑھے جادوگر کی طرف بھیج دیا اور وہ اسے جادو سکھانے لگا اس کے راستے میں ایک راہب تھا تو وہ لڑکا اس راہب کے پاس بیٹھا اور اس کی باتیں سننے لگا جو کہ اسے پسند آئیں پھر جب وہ بھی جادوگر کے پاس آتا اور راہب کے پاس سے گذرتا تو اس کے پاس بیٹھتا (دیر سے آنے کی وجہ سے) جادوگر اس لڑکے کو مارتا اس لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی تو راہب نے کہا کہ اگر تجھے جادوگر سے ڈر ہو تو کہہ دیا کر کہ مجھے میرے گھر والوں نے (کسی کام کے لئے) روک لیا تھا اور جب تجھے گھر والوں سے ڈر ہو تو کہہ دیا کر کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا۔ اسی دوران ایک بہت بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ روک لیا (جب لڑکا اس طرف آیا) تو اس نے کہا میں آج جاننا چاہوں گا کہ جادوگر کا کام اللہ کا زیادہ پسند ہے یا راہب کا؟ اور پھر ایک پتھر پکڑا اور کہنے لگا اے اللہ! اگر تجھے جادوگر کے معاملے سے راہب کا معاملہ زیادہ پسندیدہ ہے تو اس درندے کا مار دے تاکہ (یہاں راستہ سے) لوگوں کا آناجانا (شروع) ہو اور پھر وہ پتھر اس درندے کو مار کر اسے قتل کردیا اور لوگ گذرنے لگے پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اور اسے اس کی خبر دی تو راہب نے اس لڑکے سے کہا اے بیٹے! آج تو مجھ سے افضل ہے کیونکہ تیرا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جس کی وجہ سے تو عنقریب ایک مصیبت میں مبتلا کردیا جائے گا پھر اگر تو کسی مصیبت میں مبتلا ہوجائے تو میرے متعلق کسی کو نہ بتانا وہ لڑکا پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو صحیح کردیتا تھا بلکہ لوگوں کی ہر بیماری کا علاج کردیتا تھا بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفے لے کر اس کے پاس آیا اور اسے کہنے لگا اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحفے جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ سارے تمہارے لئے ہیں اس لڑکے نے کہا میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا بلکہ شفاء تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے اگر تو اللہ پر ایمان لے آئے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تجھے شفا دے دے پھر وہ (شخص) اللہ پر ایمان لے آیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرما دی۔ پھر وہ آدمی (جسے شفا ہوئی) بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا جس طرح کہ وہ پہلے بیٹھا کرتا تھا بادشاہ نے اس سے کہا کہ کس نے تجھے تیری بینائی واپس لوٹا دی؟ اس نے کہا میرے رب نے اس نے کہا کیا میرے علاوہ تیرا اور کوئی رب بھی ہے؟ اس نے کہا میرا اور تیرا رب اللہ ہے پھر بادشاہ اس کو پکڑ کر اسے عذاب دینے لگا تو اس نے بادشاہ کو اس لڑکے کے بارے میں بتادیا (اس لڑکے کو بلایا گیا) پھر جب وہ لڑکا آیا تو بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا اے بیٹے! کیا تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اب تو مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو بھی صحیح کرنے لگ گیا ہے؟ اور ایسے ایسے کرتا ہے؟ لڑکے نے کہا میں تو کسی کو شفاء نہیں دیتا بلکہ شفاء تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے بادشاہ نے اسے پکڑ کر عذاب دیا یہاں تک کہ اس نے راہب کے بارے میں بادشاہ کو بتادیا (پھر راہب کو بلوایا گیا) راہب آیا تو اس سے کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا۔ راہب نے انکار کردیا پھر بادشاہ نے آرہ منگوایا اور اس راہب کے سر پر رکھ کر اس کا سر چیر کر اس کے دو ٹکڑے کردیئے پھر بادشاہ کے ہم نشین کو لایا گیا اور اس سے بھی کہا، گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا۔ اس نے بھی انکار کردیا بادشاہ نے اس کے سر پر بھی آرہ رکھ کر سر کو چیر کر اس کے دو ٹکڑے کروا دیئے ( پھر اس لڑکے کو بلایا گیا) وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کر کے کہا کہ اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کر دے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا۔ چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا اے اللہ جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچا لے اس پہاڑ پر فوراً ایک زلزلہ آیا جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گرگئے اور وہ لڑکاچلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ لڑکے نے کہا اللہ پاک نے مجھے ان سے بچا لیا ہے۔ بادشاہ نے پھر اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کر کے کہا اسے ایک چھوٹی کشتی میں لے جاکر سمندر کے درمیان میں پھینک دینا اگر یہ اپنے مذہب سے نہ پھرے بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو لے گئے تو اس لڑکے نے کہا اے اللہ تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے پھر وہ کشتی بادشاہ کے ان ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکاچلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچالیا ہے پھر اس لڑکے نے بادشاہ سے کہا تو مجھے قتل نہیں کرسکتا جب تک کہ اس طرح نہ کرے جس طرح میں تجھے حکم دوں بادشاہ نے کہا وہ کیا؟ اس لڑکے نے کہا سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر پکڑو پھر اس تیر کو کمان کے چلہ میں رکھو اور پھر کہو! اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مرگیا یہ دیکھتے ہی سب لوگوں نے کہا ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے بادشاہ کو اس کی خبر دی گئی اور اس سے کہا گیا تجھے جس بات کا ڈر تھا اب وہی بات آن پہنچی کہ لوگ ایمان لے آئے تو پھر بادشاہ نے گلیوں کے دھانوں پر خندق کھودنے کا حکم دیا چناچہ خندق کھودی گئی اور ان خندقوں میں آگ جلا دی گئی بادشاہ نے کہا جو آدمی اپنے مذہب سے پھرنے سے باز نہیں آئے گا تو میں اس آدمی کو اس خندق میں ڈلوا دوں گا (جو لوگ اپنے مذہب پر پھرنے سے باز نہ آئے) تو انہیں خندق میں ڈال دیا گیا یہاں تک کہ ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا وہ عورت خندق میں گرنے سے گھبرائی تو اس عورت کے بچے نے کہا اماں جان! صبر کیجئے کیونکہ آپ حق پر ہیں۔
Top