مسند امام احمد - ایک انصاری صحابی کی حدیث۔ - 19463
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ يَزِيدُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ خَرَجْتُ مِنْ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَنَا بِهِ قَائِمٌ وَرَجُلٌ مَعَهُ مُقْبِلٌ عَلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً قَالَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ وَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ قَامَ بِكَ الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَتَدْرِي مَنْ هُوَ قُلْتُ لَا قَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام مَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ
ایک انصاری صحابی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضری کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا وہاں پہنچا تو دیکھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک اور آدمی بھی ہے جس کا چہرہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہے میں سمجھا کہ شاید یہ دونوں کوئی ضروری بات کررہے ہیں واللہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ترس آنے لگا جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ یہ آدمی آپ کو اتنی دیر لے کر کھڑا رہا کہ مجھے آپ پر ترس آنے لگا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا تھا میں نے عرض کیا جی ہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون تھا ؟ میں نے عرض کی نہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ جبرائیل تھے جو مجھے مسلسل پڑوسی کے متعلق وصیت کررہے تھے حتی کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ وہ اسے وراثت میں بھی حصہ قرار دیں گے پھر فرمایا اگر تم انہیں سلام کرتے تو وہ تمہیں ضرور جواب دیتے۔
Top