مسند امام احمد - حضرت ذی الجوشن کی حدیثیں۔ - 15401
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِي فَقُلْتُ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي قَدْ جِئْتُكَ بِابْنِ الْعَرْجَاءِ لِتَتَّخِذَهُ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَنْ أَقِيضَكَ بِهِ الْمُخْتَارَةَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ فَقُلْتُ مَا كُنْتُ لِأَقِيضَكَ الْيَوْمَ بِعُدَّةٍ قَالَ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ثُمَّ قَالَ يَا ذَا الْجَوْشَنِ أَلَا تُسْلِمُ فَتَكُونَ مِنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ قُلْتُ لَا قَالَ لِمَ قُلْتُ إِنِّي رَأَيْتُ قَوْمَكَ قَدْ وَلِعُوا بِكَ قَالَ فَكَيْفَ بَلَغَكَ عَنْ مَصَارِعِهِمْ بِبَدْرٍ قَالَ قُلْتُ بَلَغَنِي قَالَ قُلْتُ إِنْ تَغْلِبْ عَلَى مَكَّةَ وَتَقْطُنْهَا قَالَ لَعَلَّكَ إِنْ عِشْتَ أَنْ تَرَى ذَلِكَ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا بِلَالُ خُذْ حَقِيبَةَ الرَّجُلِ فَزَوِّدْهُ مِنْ الْعَجْوَةِ فَلَمَّا أَنْ أَدْبَرْتُ قَالَ أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ بَنِي عَامِرٍ قَالَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَبِأَهْلِي بِالْغَوْرِ إِذْ أَقْبَلَ رَاكِبٌ فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ قَالَ مِنْ مَكَّةَ فَقُلْتُ مَا فَعَلَ النَّاسُ قَالَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ هَبِلَتْنِي أُمِّي فَوَاللَّهِ لَوْ أُسْلِمُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ أَسْأَلُهُ الْحِيرَةَ لَأَقْطَعَنِيهَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ أَبِي شِمْرٍ الضِّبَابِيِّ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ سُفْيَانُ فَكَانَ ابْنُ ذِي الْجَوْشَنِ جَارًا لِأَبِي إِسْحَاقَ لَا أُرَاهُ إِلَّا سَمِعَهُ مِنْهُ
حضرت ذی الجوشن کہتے ہیں کہ قبول اسلام سے قبل میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ اہل بدر سے فراغت پاچکے تھے میں اپنے ساتھ اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا تھا میں نے آکر کہا اے محمد میں آپ کے پاس اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے خرید لیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فی الحال مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں اس کے بدلے میں تمہیں بدری زرہیں دے سکتا ہوں میں نے کہا آج تو میں کسی غلام کے بدلے میں بھی یہ گھوڑا نہیں دوں گا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر مجھے بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر فرمایا اے ذی الجوشن تم مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے کہ اس دین کے ابتدائی لوگوں میں تم بھی شامل ہوجاؤ میں نے عرض کیا نہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کہ کیوں میں نے عرض کیا میں نے دیکھا ہے کہ آپ کی قوم نے آپ کا حق مارا ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کہ تمہیں اہل بدر کے مقتولین کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہے میں نے عرض کیا مجھے معلوم ہے کیا آپ مکہ مکرمہ پر غالب آکر اسے جھکا سکیں گے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم زندہ رہے تو وہ دن ضرور دیکھوگے۔
پھر حضرت بلال سے فرمایا کہ ان کا تھیلا لے کر عجوہ کھجوروں سے بھردو تاکہ زادراہ رہے جب میں پشت پھیر کر واپس جانے لگا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ بنوعامر میں سب سے بہتر ہے میں ابھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ غوز میں ہی تھا کہ ایک سوار آیا میں نے پوچھا کہ کہاں جارہے ہو اس نے کہا مکہ مکرمہ سے آرہاہوں میں نے پوچھا کہ لوگوں کے کیا حالات ہیں اس نے بتایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر غالب آگئے ہیں میں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر میں اسی دن مسلمان ہوجاتا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حیرہ نامی شہر بھی مانگتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ مجھے دیدیتے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
Top