مسند امام احمد - بنوسلیم کی ایک خاتون کی روایت - 16042
قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ خَالِهِ مُسَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أُمِّ مَنْصُورٍ قَالَتْ أَخْبَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَلَدَتْ عَامَّةَ أَهْلِ دَارِنَا أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ وَقَالَ مَرَّةً إِنَّهَا سَأَلَتْ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ لِمَ دَعَاكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي كُنْتُ رَأَيْتُ قَرْنَيْ الْكَبْشِ حِينَ دَخَلْتُ الْبَيْتَ فَنَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَهُمَا فَخَمِّرْهُمَا فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ قَالَ سُفْيَانُ لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْكَبْشِ فِي الْبَيْتِ حَتَّى احْتَرَقَ الْبَيْتُ فَاحْتَرَقَا
بنوسلیم کی ایک خاتون جس نے بنوشیبہ کے اکثر بچوں کی پیدائش کے وقت دائی کا کام کیا تھا، سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان بن طلحہ کو قاصد کے ذریعے بلایا، یا یہ کہ خود انہوں نے عثمان سے پوچھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں کیوں بلایا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں جب بیت اللہ میں داخل ہوا تھا تو میں نے مینڈھے کے دو سینگ وہاں دیکھے تھے، میں تمہیں یہ کہنا بھول گیا تھا کہ انہیں ڈھانپ دو ، لہذا اب جا کر انہیں ڈھانپ دینا کیونکہ بیت اللہ میں کسی ایسی چیز کا ہونا مناسب نہیں ہے جو نماز کو غافل کردے، راوی کہتے ہیں کہ وہ دونوں سینگ خانہ کعبہ میں ہی رہے اور جب بیت اللہ کو آگ لگی تو وہ بھی جل گئے۔
Top