مسند امام احمد - حضرت نبیط بن شریط (رض) کی حدیثیں - 17977
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ حَدَّثَنِي نُبَيْطُ بْنُ شَرِيطٍ قَالَ إِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ إِذْ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ عَلَى عَجُزِ الرَّاحِلَةِ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى عَاتِقِ أَبِي فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ أَيُّ يَوْمٍ أَحْرَمُ قَالُوا هَذَا الْيَوْمُ قَالَ فَأَيُّ بَلَدٍ أَحْرَمُ قَالُوا هَذَا الْبَلَدُ قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ أَحْرَمُ قَالُوا هَذَا الشَّهْرُ قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ
حضرت نبی ط (رض) سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں اپنے والد صاحب کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب خطبہ شروع فرمایا تو میں اپنی سواری کے پچھلے حصے پر کھڑا ہوگیا اور اپنے والد کے کندھے پر ہاتھ رکھ لئے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا آج کا دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا سب زیادہ حرمت والا شہر کون سا ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا یہی شہر (مکہ) پھر پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا مہینہ کون سا ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا موجودہ مہینہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر تمہاری جان اور مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام و حرمت ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں، اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے کیا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے اللہ ! تو گواہ رہ اے اللہ ! تو گواہ رہ۔
Top