مسند امام احمد - حضرت ابوعمرہ انصاری کی حدیث۔ - 14904
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ الْمَخْزُومِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَةٌ فَاسْتَأْذَنَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظُهُورِهِمْ وَقَالُوا يُبَلِّغُنَا اللَّهُ بِهِ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ هَمَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُمْ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظَهْرِهِمْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِنَا إِذَا نَحْنُ لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا جِيَاعًا أَرْجَالًا وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَدْعُوَ لَنَا بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ فَتَجْمَعَهَا ثُمَّ تَدْعُوَ اللَّهَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِكَ أَوْ قَالَ سَيُبَارِكُ لَنَا فِي دَعْوَتِكَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ فَجَعَلَ النَّاسُ يُجِيئُونَ بِالْحَثْيَةِ مِنْ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذَلِكَ وَكَانَ أَعْلَاهُمْ مَنْ جَاءَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَدَعَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ ثُمَّ دَعَا الْجَيْشَ بِأَوْعِيَتِهِمْ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْتَثُوا فَمَا بَقِيَ فِي الْجَيْشِ وِعَاءٌ إِلَّا مَلَئُوهُ وَبَقِيَ مِثْلُهُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَى اللَّهَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِهِمَا إِلَّا حُجِبَتْ عَنْهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت ابو عمرہ انصاری سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کسی غزوے میں تھے اور اس دوران لوگوں کو شدت کی بھوک نے ستایا انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی سواری کا جانور ذبح کرنے کی اجازت چاہی اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے ذریعے منزل مقصود تک پہنچادیں گے حضرت عمر نے محسوس کیا کہ شاید نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں کسی سواری کو ذبح کرنے کی اجازت دیدیں گے تو وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ کل کو دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوگا اور ہم بھوکے ہونے کے ساتھ ساتھ پیدل بھی ہوں گے تو کیا بنے گا یا رسول اللہ اگر آپ مناسب خیال کریں تو ان سے کہیں کہ یہ بچا کچھا زاد راہ لے آئیں آپ اسے اکٹھا کر کے اس میں برکت کی دعا فرمائیں اللہ آپ کی دعا کی برکت سے اسے ہمارے لئے کافی فرمادیں گے چناچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا ہی کیا اور لوگوں سے بچاکچھا زاد راہ منگوا لیا۔ لوگ ایک ایک مٹھی گندم یا اس سے زیادہ کچھ لانے لگے ان میں سب سے برتر وہ شخص تھا جو ایک صاع لے کر آیا تھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تمام چیزوں کو اکٹھا کیا اور اللہ سے دعا کی جب تک اللہ کو منظور ہوا پھر سارے لشکر کو ان کے برتنوں سمیت بلایا اور انہیں حکم دیا کہ مٹھیاں بھر بھر کر اٹھائیں چناچہ پورے لشکر میں ایک برتن بھی ایسا نہ بچا جسے لوگوں نے بھر نہ لیاہو لیکن وہ پھر بھی اتنے کا اتناہی رہا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرانے لگے یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور فرمایا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں جو بندہ مومن ان دو گواہیوں کے ساتھ قیامت کے دن اللہ سے ملے گا اسے جہنم کی آگ سے محفوظ رکھاجائے گا۔
Top