Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (20332 - 20597)
Select Hadith
20332
20333
20334
20335
20336
20337
20338
20339
20340
20341
20342
20343
20344
20345
20346
20347
20348
20349
20350
20351
20352
20353
20354
20355
20356
20357
20358
20359
20360
20361
20362
20363
20364
20365
20366
20367
20368
20369
20370
20371
20372
20373
20374
20375
20376
20377
20378
20379
20380
20381
20382
20383
20384
20385
20386
20387
20388
20389
20390
20391
20392
20393
20394
20395
20396
20397
20398
20399
20400
20401
20402
20403
20404
20405
20406
20407
20408
20409
20410
20411
20412
20413
20414
20415
20416
20417
20418
20419
20420
20421
20422
20423
20424
20425
20426
20427
20428
20429
20430
20431
20432
20433
20434
20435
20436
20437
20438
20439
20440
20441
20442
20443
20444
20445
20446
20447
20448
20449
20450
20451
20452
20453
20454
20455
20456
20457
20458
20459
20460
20461
20462
20463
20464
20465
20466
20467
20468
20469
20470
20471
20472
20473
20474
20475
20476
20477
20478
20479
20480
20481
20482
20483
20484
20485
20486
20487
20488
20489
20490
20491
20492
20493
20494
20495
20496
20497
20498
20499
20500
20501
20502
20503
20504
20505
20506
20507
20508
20509
20510
20511
20512
20513
20514
20515
20516
20517
20518
20519
20520
20521
20522
20523
20524
20525
20526
20527
20528
20529
20530
20531
20532
20533
20534
20535
20536
20537
20538
20539
20540
20541
20542
20543
20544
20545
20546
20547
20548
20549
20550
20551
20552
20553
20554
20555
20556
20557
20558
20559
20560
20561
20562
20563
20564
20565
20566
20567
20568
20569
20570
20571
20572
20573
20574
20575
20576
20577
20578
20579
20580
20581
20582
20583
20584
20585
20586
20587
20588
20589
20590
20591
20592
20593
20594
20595
20596
20597
مسند امام احمد - حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 17165
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَصَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ وَهُوَ يَقُولُ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ فَرَحُهُمْ بِنَا فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ أَوْسَعُوا لَنَا فَقَعَدْنَا فَرَحَّبَ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَنَا ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَنْ سَيِّدُكُمْ وَزَعِيمُكُمْ فَأَشَرْنَا جَمِيعًا إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ عَائِذٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَذَا الْأَشَجُّ فَكَانَ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ عَلَيْهِ هَذَا الِاسْمُ لِضَرْبَةٍ بِوَجْهِهِ بِحَافِرِ حِمَارٍ فَقُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَتَخَلَّفَ بَعْدَ الْقَوْمِ فَعَقَلَ رَوَاحِلَهُمْ وَضَمَّ مَتَاعَهُمْ ثُمَّ أَخْرَجَ عَيْبَتَهُ فَأَلْقَى عَنْهُ ثِيَابَ السَّفَرِ وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَهُ وَاتَّكَأَ فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ الْأَشَجُّ أَوْسَعَ الْقَوْمُ لَهُ وَقَالُوا هَاهُنَا يَا أَشَجُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَوَى قَاعِدًا وَقَبَضَ رِجْلَهُ هَاهُنَا يَا أَشَجُّ فَقَعَدَ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَوَى قَاعِدًا فَرَحَّبَ بِهِ وَأَلْطَفَهُ ثُمَّ سَأَلَ عَنْ بِلَادِهِ وَسَمَّى لَهُ قَرْيَةَ الصَّفَا وَالْمُشَقَّرِ وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قُرَى هَجَرَ فَقَالَ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَأَنْتَ أَعْلَمُ بِأَسْمَاءِ قُرَانَا مِنَّا فَقَالَ إِنِّي قَدْ وَطِئْتُ بِلَادَكُمْ وَفُسِحَ لِي فِيهَا قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَكْرِمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ أَشْبَاهُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ وَأَشْبَهُ شَيْءٍ بِكُمْ شِعَارًا وَأَبْشَارًا أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ مُكْرَهِينَ وَلَا مَوْتُورِينَ إِذْ أَبَى قَوْمٌ أَنْ يُسْلِمُوا حَتَّى قُتِلُوا فَلَمَّا أَنْ قَالَ كَيْفَ رَأَيْتُمْ كَرَامَةَ إِخْوَانِكُمْ لَكُمْ وَضِيَافَتَهُمْ إِيَّاكُمْ قَالُوا خَيْرَ إِخْوَانٍ أَلَانُوا فَرْشَنَا وَأَطَابُوا مَطْعَمَنَا وَبَاتُوا وَأَصْبَحُوا يُعَلِّمُونَنَا كِتَابَ رَبِّنَا وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا فَأُعْجِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَرِحَ بِهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَجُلًا رَجُلًا يَعْرِضُنَا عَلَى مَا تَعَلَّمْنَا وَعَلِمْنَا فَمِنَّا مَنْ تَعَلَّمَ التَّحِيَّاتِ وَأُمَّ الْكِتَابِ وَالسُّورَةَ وَالسُّورَتَيْنِ وَالسُّنَّةَ وَالسُّنَّتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ هَلْ مَعَكُمْ مِنْ أَزْوَادِكُمْ شَيْءٌ فَفَرِحَ الْقَوْمُ بِذَلِكَ وَابْتَدَرُوا رِحَالَهُمْ فَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مَعَهُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ فَوَضَعَهَا عَلَى نِطْعٍ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَوْمَأَ بِجَرِيدَةٍ فِي يَدِهِ كَانَ يَخْتَصِرُ بِهَا فَوْقَ الذِّرَاعِ وَدُونَ الذِّرَاعَيْنِ فَقَالَ أَتُسَمُّونَ هَذَا التَّعْضُوضَ قُلْنَا نَعَمْ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُبْرَةٍ أُخْرَى فَقَالَ أَتُسَمُّونَ هَذَا الصَّرَفَانَ قُلْنَا نَعَمْ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُبْرَةٍ فَقَالَ أَتُسَمُّونَ هَذَا الْبَرْنِيَّ فَقُلْنَا نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّهُ خَيْرُ تَمْرِكُمْ وَأَنْفَعُهُ لَكُمْ قَالَ فَرَجَعْنَا مِنْ وِفَادَتِنَا تِلْكَ فَأَكْثَرْنَا الْغَرْزَ مِنْهُ وَعَظُمَتْ رَغْبَتُنَا فِيهِ حَتَّى صَارَ عُظْمَ نَخْلِنَا وَتَمْرِنَا الْبَرْنِيُّ قَالَ فَقَالَ الْأَشَجُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ ثَقِيلَةٌ وَخِمَةٌ وَإِنَّا إِذَا لَمْ نَشْرَبْ هَذِهِ الْأَشْرِبَةَ هِيجَتْ أَلْوَانُنَا وَعَظُمَتْ بُطُونُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَلْيَشْرَبْ أَحَدُكُمْ فِي سِقَائِهِ يُلَاثُ عَلَى فِيهِ فَقَالَ لَهُ الْأَشَجُّ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ رَخِّصْ لَنَا فِي هَذِهِ فَأَوْمَأَ بِكَفَّيْهِ وَقَالَ يَا أَشَجُّ إِنْ رَخَّصْتُ لَكُمْ فِي مِثْلِ هَذِهِ وَقَالَ بِكَفَّيْهِ هَكَذَا شَرِبْتَهُ فِي مِثْلِ هَذِهِ وَفَرَّجَ يَدَيْهِ وَبَسَطَهَا يَعْنِي أَعْظَمَ مِنْهَا حَتَّى إِذَا ثَمِلَ أَحَدُكُمْ مِنْ شَرَابِهِ قَامَ إِلَى ابْنِ عَمِّهِ فَهَزَرَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ وَكَانَ فِي الْوَفْدِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَصَرٍ يُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ قَدْ هُزِرَتْ سَاقُهُ فِي شُرْبٍ لَهُمْ فِي بَيْتٍ تَمَثَّلَهُ مِنْ الشِّعْرِ فِي امْرَأَةٍ مِنْهُمْ فَقَامَ بَعْضُ أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ فَهَزَرَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ قَالَ فَقَالَ الْحَارِثُ لَمَّا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلْتُ أُسْدِلُ ثَوْبِي لِأُغَطِّيَ الضَّرْبَةَ بِسَاقِي وَقَدْ أَبْدَاهَا اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
وفد عبدالقیس کی احادیث
وفد عبدالقیس کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ جب نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا، جب ہم لوگوں کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے لئے جگہ کشادہ کردی، ہم لوگ وہاں جا کر بیٹھ گئے، نبی ﷺ نے ہمیں خوش آمدید کہا، ہمیں دعائیں دیں اور ہماری طرف دیکھ کر فرمایا کہ تمہارا سردار کون ہے؟ ہم سب نے منذر بن عائذ کی طرف اشارہ کردیا، نبی ﷺ نے فرمایا کیا یہی اشج ہیں؟ اصل میں ان کے چہرے پر گدھے کے کھر کی چوٹ کا نشان تھا، یہ پہلا دن تھا جب ان کا یہ نام پڑا، ہم نے عرض کیا! جی یا رسول اللہ! ﷺ اس کے بعد کچھ لوگ جو پیچھے رہ گئے تھے، انہوں نے اپنی سواریوں کو باندھا، سامان سمیٹا، پراگندگی کو دور کیا، سفر کے کپڑے اتارے، عمدہ کپڑے زیب تن کئے، پھر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی ﷺ نے اپنے مبارک پاؤں پھیلا کر پیچھے ٹیک لگائی ہوئی تھی، جب اشج قریب پہنچے تو لوگوں نے ان کے لئے جگہ کشادہ کی اور کہا کہ اے اشج! یہاں تشریف لائیے، نبی ﷺ بھی سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور پاؤں سمیٹ لئے اور فرمایا اشج! یہاں آؤ، چناچہ وہ نبی ﷺ کی دائیں جانب جا کر بیٹھ گئے، نبی ﷺ نے انہیں خوش آمدید کہا اور ان کے ساتھ لطف و کرم سے پیش آئے اور ان کے شہروں کے متعلق دریافت فرمایا اور ایک ایک بستی مثلا صفا، مشقر وغیرہ دیگر بستیوں کے نام لئے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کو تو ہماری بستویں کے نام ہم سے بھی زیادہ اچھی طرح معلوم ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارے علاقوں میں گیا ہوا ہوں اور وہاں میرے ساتھ کشادگی کا معاملہ رہا ہے۔ پھر نبی ﷺ نے انصار کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے گروہ انصار! اپنے بھائیوں کا اکرام کرو، کہ یہ اسلام میں تمہاے مشابہہ ہیں، ملاقات اور خوشخبری میں تمہارے سب سے زیادہ مشابہہ ہیں، یہ لوگ اپنی رغبت سے بلا کسی جبر و اکرام یا ظلم کے اس وقت اسلام لائے ہیں جبکہ دوسرے لوگوں نے اسلام لانے سے انکار کردیا اور قتل ہوگئے۔ اگلے دن نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم نے اپنے بھائیوں کا اکرام اور میزبانی کا طریقہ کیسا پایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ لوگ بہترین بھائی ثابت ہوئے ہیں، انہوں نے ہمیں نرم گرم بستر مہیا کئے، بہترین کھانا کھلایا اور صبح وشام ہمیں اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی ﷺ کی سنت سکھاتے رہے، نبی ﷺ یہ سن کر بہت خوش ہوئے، پھر ہم سب کی طرف فردا فردا متوجہ ہوئے اور ہم نے نبی ﷺ کے سامنے وہ چیزیں پیش کیں جو ہم نے سیکھی تھیں اور نبی ﷺ نے بھی ہمیں کچھ باتیں سکھائیں، ہم میں سے بعض لوگ وہ بھی تھے جنہوں نے التحیات، سورت فاتحہ، ایک دو سورتیں اور کچھ سنتیں سیکھی تھیں۔ اس کے بعد نبی ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ کیا تم لوگوں کے پاس زاد راہ ہے؟ لوگ خوشی سے اپنے اپنے خیموں کی طرف دوڑے اور ہر آدمی اپنے ساتھ کھجوروں کی تھیلی لے آیا اور لا کر نبی ﷺ کے سامنے ایک دستر خوان پر رکھ دیا۔ نبی ﷺ نے اپنے دست مبارک سے جو چھڑی پکڑی ہوئی تھی اور کبھی کبھی آپ ﷺ اسے اپنی کوکھ میں چبھاتے تھے جو ایک گز سے لمبی اور دو گز سے چھوٹی تھی سے اشارہ کر کے فرمایا کیا تم اسے تعضوض کہتے ہو؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں! پھر دوسری تھیلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کیا تم اسے برنی کہتے ہو؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں! نبی ﷺ نے فرمایا یہ سب سے زیادہ بہترین اور فائدہ مند کھجور ہے۔ ہم اپنا وہ کھانا لے کر واپس آئے تو ہم نے سوچا کہ اب سب سے زیادہ اسے اگائیں گے اور اس سلسلے میں ہماری رغبت میں اضافہ ہوگیا، حتی کہ ہمارے اکثر باغات میں برنی کھجور لگنے لگی، اسی دوران اشج کہنے لگے یا رسول اللہ! ﷺ ہمارا علاقہ بنجر اور شور علاقہ ہے، اگر ہم یہ مشروبات پئیں تو ہمارے رنگ بدل جائیں اور پیٹ بڑھ جائیں؟ حنتم اور نقیر کچھ نہ پیا کرو، بلکہ تمہیں اپنے مشکیزے سے پینا چاہئے۔ اشج کہنے لگے یا رسول اللہ! ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ہمیں اتنی مقدار کی (دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے اشارہ کر کے کہا) اجازت دے دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ نے بھی اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا اگر میں تمہیں اتنی مقدار کی اجازت دے دوں تو تم اتنی مقدار پینے لگو گے، یہ کہہ کر آپ ﷺ نے ہاتھوں کو کشادہ کیا، مطلب یہ تھا کہ اس مقدار سے آگے نکل جاؤ گے، حتی کہ جب تم میں سے کوئی شخص نشے سے مدہوش ہوجائے تو اپنے ہی چچا زاد کی طرف بڑھ کر تلوار سے اس کی پنڈلی کاٹ دے گا۔ دراصل اس وفد میں ایک آدمی بھی تھا، جس کا تعلق بنو عصر سے تھا اور اس کا نام حارث تھا، اس کی پنڈلی ایسے ہی ایک موقع پر کٹ گئی تھی جبکہ انہوں نے ایک گھر میں اپنے ہی قبیلے کی ایک عورت کے متعلق اشعار کہتے ہوئے شراب پی تھی۔ اور اسی دوران اہل خانہ میں سے ایک شخص نے نشے سے مدہوش ہو کر اس کی پنڈلی کاٹ ڈالی تھی، حارث کا کہنا ہے کہ جب میں نے نبی ﷺ کے منہ سے یہ جملہ سنا تو میں اپنی پنڈلی پر کپڑا ڈال کر اسے چھپانے کی کوشش کرنے لگا جسے اللہ نے ظاہر کردیا تھا۔
Top