Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (21735 - 21814)
Select Hadith
21735
21736
21737
21738
21739
21740
21741
21742
21743
21744
21745
21746
21747
21748
21749
21750
21751
21752
21753
21754
21755
21756
21757
21758
21759
21760
21761
21762
21763
21764
21765
21766
21767
21768
21769
21770
21771
21772
21773
21774
21775
21776
21777
21778
21779
21780
21781
21782
21783
21784
21785
21786
21787
21788
21789
21790
21791
21792
21793
21794
21795
21796
21797
21798
21799
21800
21801
21802
21803
21804
21805
21806
21807
21808
21809
21810
21811
21812
21813
21814
مسند امام احمد - حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 21433
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ رِعْيَةَ السُّحَيْمِيِّ قَالَ كَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَدِيمٍ أَحْمَرَ فَأَخَذَ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَقَعَ بِهِ دَلْوَهُ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَلَمْ يَدَعُوا لَهُ رَائِحَةً وَلَا سَارِحَةً وَلَا أَهْلًا وَلَا مَالًا إِلَّا أَخَذُوهُ وَانْفَلَتَ عُرْيَانًا عَلَى فَرَسٍ لَهُ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرَةٌ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى ابْنَتِهِ وَهِيَ مُتَزَوِّجَةٌ فِي بَنِي هِلَالٍ وَقَدْ أَسْلَمَتْ وَأَسْلَمَ أَهْلُهَا وَكَانَ مَجْلِسُ الْقَوْمِ بِفِنَاءِ بَيْتِهَا فَدَارَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْبَيْتِ قَالَ فَلَمَّا رَأَتْهُ أَلْقَتْ عَلَيْهِ ثَوْبًا قَالَتْ مَا لَكَ قَالَ كُلُّ الشَّرِّ نَزَلَ بِأَبِيكِ مَا تُرِكَ لَهُ رَائِحَةٌ وَلَا سَارِحَةٌ وَلَا أَهْلٌ وَلَا مَالٌ إِلَّا وَقَدْ أُخِذَ قَالَتْ دُعِيتَ إِلَى الْإِسْلَامِ قَالَ أَيْنَ بَعْلُكِ قَالَتْ فِي الْإِبِلِ قَالَ فَأَتَاهُ فَقَالَ مَا لَكَ قَالَ كُلُّ الشَّرِّ قَدْ نَزَلَ بِهِ مَا تُرِكَتْ لَهُ رَائِحَةٌ وَلَا سَارِحَةٌ وَلَا أَهْلٌ وَلَا مَالٌ إِلَّا وَقَدْ أُخِذَ وَأَنَا أُرِيدُ مُحَمَّدًا أُبَادِرُهُ قَبْلَ أَنْ يُقَسِّمَ أَهْلِي وَمَالِي قَالَ فَخُذْ رَاحِلَتِي بِرَحْلِهَا قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا قَالَ فَأَخَذَ قَعُودَ الرَّاعِي وَزَوَّدَهُ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ قَالَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ إِذَا غَطَّى بِهِ وَجْهَهُ خَرَجَتْ اسْتُهُ وَإِذَا غَطَّى اسْتَهُ خَرَجَ وَجْهُهُ وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يُعْرَفَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَدِينَةِ فَعَقَلَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ بِحِذَائِهِ حَيْثُ يُصَلِّي فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْسُطْ يَدَيْكَ فَلْأُبَايِعْكَ فَبَسَطَهَا فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَضْرِبَ عَلَيْهَا قَبَضَهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَفَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ثَلَاثًا قَبَضَهَا إِلَيْهِ وَيَفْعَلُهُ فَلَمَّا كَانَتْ الثَّالِثَةُ قَالَ مَنْ أَنْتَ قَالَ رِعْيَةُ السُّحَيْمِيُّ قَالَ فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَضُدَهُ ثُمَّ رَفَعَهُ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ هَذَا رِعْيَةُ السُّحَيْمِيُّ الَّذِي كَتَبْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذَ كِتَابِي فَرَقَعَ بِهِ دَلْوَهُ فَأَخَذَ يَتَضَرَّعُ إِلَيْهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْلِي وَمَالِي قَالَ أَمَّا مَالُكَ فَقَدْ قُسِّمَ وَأَمَّا أَهْلُكَ فَمَنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ مِنْهُمْ فَخَرَجَ فَإِذَا ابْنُهُ قَدْ عَرَفَ الرَّاحِلَةَ وَهُوَ قَائِمٌ عِنْدَهَا فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَذَا ابْنِي فَقَالَ يَا بِلَالُ اخْرُجْ مَعَهُ فَسَلْهُ أَبُوكَ هَذَا فَإِنْ قَالَ نَعَمْ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ فَخَرَجَ بِلَالٌ إِلَيْهِ فَقَالَ أَبُوكَ هَذَا قَالَ نَعَمْ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا اسْتَعْبَرَ إِلَى صَاحِبِهِ فَقَالَ ذَاكَ جَفَاءُ الْأَعْرَابِ
حضرت رعیہ ؓ کی حدیثیں
حضرت رعیہ سحیمی ؓ سے مروی ہے کہ ان کے پاس نبی کریم ﷺ کا سرخ چمڑے پر لکھا ہوا ایک خط آیا انہوں نے اسے اپنے ڈول کا پیوند بنا لیا، کچھ عرصے بعد نبی کریم ﷺ نے ان کے علاقے میں ایک لشکر روانہ فرما دیا جس نے ان کے پاس کچھ بھی نہ چھوڑا نہ اہل خانہ اور نہ مال و دولت بلکہ سب کچھ لے گئے وہ برہنہ ایک گھوڑے پر " جو پالان سے محروم تھا " جان بچا کر بھاگے اور اپنی بیٹی کے پاس پہنچے جس کی شادی بنو ہلال میں ہوئی تھی اور اس کے گھر والوں کے ساتھ اسلام قبول کرلیا تھا اور اس کے گھر کا صحن لوگوں کی بیٹھک ہوتا تھا اس لئے وہ گھوم کر پچھلے حصے سے گھر میں داخل ہوئے، ان کی بیٹی نے انہیں اس حال میں دیکھ کر پہننے کے لئے کپڑے دیئے اور پوچھا کہ کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ تیرے باپ پر بڑی سخت مصیبت آئی، اس کے پاس کچھ بھی نہیں رہا اہل خانہ اور نہ ہی مال و دولت، سب کچھ چھین لیا گیا اس نے پوچھا کہ آپ کو اسلام کی دعوت دی گئی تھی؟ لیکن انہوں نے اس کا جواب دیئے بغیر پوچھا کہ تمہارا شوہر کہاں ہے؟ اس نے بتایا اونٹوں کے پاس ہیں۔ پھر وہ اپنے داماد کے پاس گئے اس نے بھی پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے وہی جواب دیا اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے اہل خانہ اور مال کے تقسیم ہونے سے پہلے محمد ﷺ کے پاس پہنچ جاؤں، اس نے کہا کہ پھر آپ میری سواری لے جائیں انہوں نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں پھر اس نے چرواہے کا ایک جوان اونٹ لیا اور ایک برتن میں پانی کا توشہ دے کر روانہ کردیا ان کے جسم پر ایک کپڑا تھا لیکن وہ اتنا چھوٹا تھا اگر اس سے چہرہ ڈھانپتے تو جسم کا نچلا حصہ برہنہ ہوجاتا اور اگر نچلے حصے کو ڈھانپتے تو چہرہ نظر آتا تھا اور وہ اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ انہیں کوئی شناخت کرلے۔ بہرحال! وہ مدینہ منورہ پہنچے اپنی سواری کو باندھا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے نبی کریم ﷺ جب نماز فجر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ ہاتھ بڑھائیے کہ میں آپ کی بیعت کروں نبی کریم ﷺ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا جب انہوں نے اپنا ہاتھ اس پر رکھنا چاہا تو نبی کریم ﷺ نے اپنا دست مبارک پیچھے کھینچ لیا تین مرتبہ اسی طرح ہوا پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ عرض کیا کہ میں رعیہ سحیمی ہوں نبی کریم ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے بلند کیا اور فرمایا اے گروہ مسلمین! یہ رعیہ سحیمی ہے جس کی طرف میں نے خط لکھا تھا اور اس نے میرا خط پکڑ کر اپنے ڈول کا پیوند بنا لیا تھا۔ پھر انہوں نے نہایت عاجزی سے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ میرے اہل خانہ اور میرا مال واپس کر دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارا مال تو تقسیم ہوچکا البتہ تمہارے جو اہل خانہ تمہیں مل جائیں وہ تمہارے ہی ہیں چناچہ وہ باہر نکلے تو ان کا بیٹا ان کی سواری کو پہچان کر کے اس کے پاس کھڑا تھا وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلال! اس کے ساتھ جاؤ اس لڑکے سے پوچھو کہ کیا یہ تیرا باپ ہے؟ اگر وہ اقرار کرلے تو اسے ان کے حوالے کردو چناچہ حضرت بلال ؓ اس کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ میں نے ان دونوں میں سے کسی کو بھی ایک دوسرے سے مل کر آنسو بہاتے ہوئے نہیں دیکھا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہی تو دیہاتیوں کی سخت دلی ہے۔
Top