مسند امام احمد - حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 22421
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعُلُوِّ فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَحَوَّلَ فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّفْلُ أَرْفَقُ بِي فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا فَتَحَوَّلَ أَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ فَكَانَ يَصْنَعُ طَعَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ فَإِذَا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَّبِعُ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْكُلُ مِنْ حَيْثُ أَثَرِ أَصَابِعِهِ فَصَنَعَ ذَاتَ يَوْمٍ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ فَسَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَثَرِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَمْ يَأْكُلْ فَصَعِدَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَحَرَامٌ هُوَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْرَهُهُ قَالَ فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ أَوْ مَا كَرِهْتَهُ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى
حضرت ابوایوب انصاری ؓ کی مرویات
حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم ﷺ ان کے یہاں فروکش ہوئے نبی کریم ﷺ نیچے کی منزل میں رہتے اور حضرت ابوایوب ؓ اوپر کی منزل میں ایک مرتبہ رات کے وقت انہیں خیال آیا کہ ہم تو نبی کریم ﷺ سے اوپر ہو کر چلتے ہیں چناچہ وہ ساری رات انہوں نے ایک کونے میں گذار دی صبح ہونے پر نبی کریم ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے نچلی منزل زیادہ موافق ہے وہ کہنے لگے کہ میں تو اس چھت پر نہیں چڑھوں گا جس کے نیچے آپ ہوں اس طرح حضرت ابو ایوب ؓ نیچے اور نبی کریم ﷺ اوپر چلے گئے نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم ﷺ اس میں سے حضرت ابوایوب ؓ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب ؓ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم ﷺ نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام) )
Top