Sunan An Nasai 4231ضعیف
فرع اور عتیرہ کے متعلق
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ زُرَارَةَ بْنِ كُرَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ، فَأَتَيْتُهُ مِنْ أَحَدِ شِقَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، اسْتَغْفِرْ لِي ؟، فَقَالَ: غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ، أَرْجُو أَنْ يَخُصَّنِي دُونَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، فَقَالَ: بِيَدِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْعَتَائِرُ وَالْفَرَائِعُ، قَالَ: مَنْ شَاءَ عَتَرَ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ، وَمَنْ شَاءَ فَرَّعَ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعْ فِي الْغَنَمِ أُضْحِيَّتُهَاوَقَبَضَ أَصَابِعَهُ إِلَّا وَاحِدَةً.
حارث بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ سے ملا، آپ اپنی اونٹنی عضباء، پر سوار تھے۔ میں آپ کی ایک جانب گیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے، آپ نے فرمایا : اللہ تم لوگوں کی مغفرت فرمائے ۔ پھر میں آپ کی دوسری جانب گیا، مجھے امید تھی کہ آپ خاص طور پر میرے لیے دعا کریں گے، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں (کو اٹھا کر) فرمایا : اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف کرے ۔ پھر لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! عتیرہ اور فرع کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو چاہے عتیرہ ذبح کرے اور جو چاہے نہ کرے اور جو چاہے فرع کرے اور جو چاہے نہ کرے، بکریوں میں صرف قربانی ہے ، اور آپ نے اپنی سب انگلیاں بند کرلیں سوائے ایک کے (یعنی : سالانہ صرف ایک قربانی ہے) ۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٢٧٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/المناسک ٩ (١٧٤٢) ، مسند احمد (٣/٤٨٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” یحییٰ بن زرارہ “ لین الحدیث ہیں، مگر اس حدیث کے مضامین دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہیں )
قال الشيخ الألباني : ضعيف
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4226
It was narrated that Yahya bin Zurarah bin Karim bin Al-Harith bin Amr Al-Bahili said: "I heard my father say, that he heard his grandfather Al-Harith bin Amr, that he met the Messenger of Allah ﷺ during the Farewell Pilgrimage, when he was atop his slit-eared camel. (He said): I said: O Messenger of Allah, May my father and mother be ransomed for you; pray for forgiveness for me. He said: May Allah forgive you (plural). Then I came to him from the other side, hoping that he would supplicate just for me alone, and not them. I said: O Messenger of Allah, pray for forgiveness for me. He said: May Allah forgive you (plural). Then a man among the people said: O Messenger of Allah, (what about) the Atirah and Fara? He said: Whoever wishes to offer and Atirah may do so, and whoever does not wish to, may not. Whoever wishes to offer a Fara may do so, and whoever does not wish to, may not. And with regard to sheep, a sacrifice should be offered. And he clasped between his fingers except for one.