Sunan An Nasai 985صحیح
نماز مغرب میں سبح اسم ربک الاعلی کی تلاوت کرنا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: مَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِنَاضِحَيْنِ عَلَى مُعَاذٍ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَصَلَّى الرَّجُلُ، ثُمَّ ذَهَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَلَّا قَرَأْتَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا.
جابر (رض) کہتے ہیں : انصار کا ایک شخص دو اونٹوں کے ساتھ جن پر سنچائی کے لیے پانی ڈھویا جاتا ہے معاذ (رض) کے پاس سے گزرا، اور وہ مغرب ١ ؎ پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے سورة البقرہ شروع کردی، تو اس شخص نے (الگ جا کر) نماز پڑھی، پھر وہ چلا گیا تو یہ بات نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : معاذ ! کیا تم فتنہ پرداز ہو ؟ معاذ کیا تم فتنہ پرداز ہو ؟ سبح اسم ربک الأعلى اور والشمس وضحاها اور اس طرح کی سورتیں کیوں نہیں پڑھتے ۔
تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٨٣٢ (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: صحیح بات یہ ہے کہ یہ واقعہ عشاء میں ہوا، جیسا کہ صحیح بخاری میں اس کی صراحت ہے، نیز دیکھئیے حدیث رقم : ٩٩٨ ۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 984
It was narrated that Jabir said: "A man from among the Ansar passed Muadh leading two camels, when he (Muadh) was praying maghrib, and he was starting to recite Al-Baqarah. So that man prayed then went away. News of that reached the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Do you want to cause hardship to the people, O Muadh; do you want to cause hardship to the people, O Muadh? Why dont you recite: Glorify the Name of your Lord, the Most High and By the sun and its brightness and the like"?