مسند امام احمد - حضرت عمروبن عبسہ (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 14829
أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا،‏‏‏‏ فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ،‏‏‏‏ فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا،‏‏‏‏ فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي النِّسَاءِ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى سورة النساء آية 43،‏‏‏‏ فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقَامَ الصَّلَاةَ نَادَى:‏‏‏‏ لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى. فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا،‏‏‏‏ فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَدُعِيَ عُمَرُ،‏‏‏‏ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا بَلَغَ:‏‏‏‏ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ سورة المائدة آية 91 قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ انْتَهَيْنَا انْتَهَيْنَا.
شراب کی حرمت سے متعلق خداوندقدوس نے ارشاد فرمایا اے اہل ایمان! شراب اور جوا اور بت اور پانسے (کے تیر) یہ تمام کے تمام ناپاک ہیں شیطان کے کام ہیں اور شیطان یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان میں دشمنی اور لڑائی پیدا کرا دے شراب پلا اور جوا کھلا کر اور روک دے تم کو اللہ کی یاد سے اور نماز سے تو تم لوگ چھوڑتے ہو یا نہیں۔
ابومیسرہ کہتے ہیں کہ جب شراب کی حرمت نازل (ہونے کو) ہوئی تو عمر ؓ نے (دعا میں) کہا: اے اللہ! شراب کے بارے میں صاف صاف آگاہ فرما دے، اس پر سورة البقرہ کی آیت نازل ہوئی ١ ؎ عمر ؓ کو بلایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی، (پھر بھی) انہوں نے کہا: اے اللہ! شراب کے بارے میں صاف صاف آگاہ فرما دے، اس پر سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سکارى اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں تو نماز کے قریب نہ جاؤ (النساء: ٤٣ ) ، چناچہ رسول اللہ کا منادی جب اقامت کہتا تو زور سے پکارتا: نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ، پھر عمر ؓ کو بلایا گیا اور انہیں پڑھ کر یہ آیت سنائی گئی، (پھر بھی) انہوں نے کہا: اللہ! شراب کے بارے میں ہمیں صاف صاف آگاہ فرما دے، اس پر سورة المائدہ کی آیت نازل ہوئی ٢ ؎، پھر عمر ؓ کو بلا کر یہ آیت انہیں سنائی گئی، جب فهل أنتم منتهون پر پہنچے تو عمر ؓ نے کہا: ہم باز آئے، ہم باز آئے۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الًٔشربة ١ (٣٦٧٠)، سنن الترمذی/تفسیر سورة المائدة (٣٠٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٤) مسند احمد (١/٥٣) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: یعنی ارشاد باری تعالیٰ قل فيهما إثم کبير و منافع للناس وإثمهمآ أكبر من نفعهما اے نبی! کہہ دیجئیے کہ ان دونوں (شراب اور جوا) میں بہت بڑا گناہ ہے، اور لوگوں کے لیے کچھ فوائد بھی ہیں، لیکن ان کا گناہ ان کے فوائد سے بڑھ کر ہے (البقرة: 219) ٢ ؎: یعنی: ارشاد باری تعالیٰ إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العداوة والبغضائ في الخمر والميسر ويصدکم عن ذکر الله وعن الصلاة فهل أنتم منتهون شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ وہ شراب اور جوا کے ذریعہ تمہارے آپس میں بغض و عداوت پیدا کر دے، اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور نماز سے روک دے، تو کیا تم (اب بھی ان دونوں سے) باز آ جاؤ گے؟ (المائدہ: ٩١
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5540
Top