سنن الترمذی - تقدیر کا بیان - 2234
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِي الْقَدَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْنَتَيْهِ الرُّمَّانُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَبِهَذَا أُمِرْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏أَمْ بِهَذَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حِينَ تَنَازَعُوا فِي هَذَا الْأَمْرِ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ أَلَّا تَتَنَازَعُوا فِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَصَالِحٌ الْمُرِّيُّ لَهُ غَرَائِبُ يَنْفَرِدُ بِهَا لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول اللہ ہماری طرف نکلے، اس وقت ہم سب تقدیر کے مسئلہ میں بحث و مباحثہ کر رہے تھے، آپ غصہ ہوگئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور ایسا نظر آنے لگا گویا آپ کے گالوں پر انار کے دانے نچوڑ دئیے گئے ہوں۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے، یا میں اسی واسطے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ؟ بیشک تم سے پہلی امتیں ہلاک ہوگئیں جب انہوں نے اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ کیا، میں تمہیں قسم دلاتا ہوں کہ اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ نہ کرو ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے اس سند سے صرف صالح مری کی روایت سے جانتے ہیں اور صالح مری کے بہت سارے غرائب ہیں جن کی روایت میں وہ منفرد ہیں، کوئی ان کی متابعت نہیں کرتا۔ ٣ - اس باب میں عمر، عائشہ اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٤٥٣٠) (حسن )
وضاحت : ١ ؎ : تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے ، یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ بندوں کے اچھے اور برے اعمال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور ان کا ظہور اللہ کے قضاء و قدر اور اس کے ارادے و مشیئت پر ہے ، اور اس کا علم اللہ کو پوری طرح ہے ، لیکن ان امور کا صدور خود بندے کے اپنے اختیار سے ہوتا ہے ، مگر اللہ تعالیٰ اچھے اعمال کو پسند کرتا ہے ، اور برے اعمال کو ناپسند کرتا ہے ، اور اسی اختیار کی بنیاد پر جزا و سزا دیتا ہے ، تقدیر کے مسئلہ میں عقل سے غور و خوض اور بحث و مباحثہ جائز نہیں ، کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا گمراہی کا خطرہ ہے۔
قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (98 و 99)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2133
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ came to us while we were debating about Divine decree. He became angry and his face turned so red as if pomegranate seed had been cracked open on his face. He asked us, “Is this what, you are commanded to do? Or, is this with which I was sent to you? Indeed, those before you perished only because they debated on this subject. I call upon you to assure me that you will not debate on it ever.”
Top