Sunan At-Tirmidhi 1603صحیح
اہل کتاب کو سلام کرنا۔
حدیث نمبر: 1603
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقُلْ: عَلَيْكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہود میں سے کوئی جب تم لوگوں کو سلام کرتا ہے تو وہ کہتا ہے : «السام عليک» (یعنی تم پر موت ہو) ، اس لیے تم جواب میں صرف «عليک» کہو (یعنی تم پر موت ہو) ۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستئذان ٢٢ (٦٦٥٧) ، والمرتدین ٤ (٦٩٢٨) ، صحیح مسلم/السلام ٤ (٢١٦٤) ، سنن ابی داود/ الأدب ١٤٩ (٥٢٠٦) ، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٣٤ (١٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٧١٢٨) ، وط/السلام ٢ (٣) ، و مسند احمد (٢/١٩) ، وسنن الدارمی/الاستئذان ٧ (٢٦٧٧) (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (5 / 112 )
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1603
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘When one of the Jews greets you, he only says as-saam alayka, so respond with alayka.” [Bukhari 2928, Muslim 2164]