سنن الترمذی - علم کا بیان - 2787
حدیث نمبر: 2645
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے دین کی سمجھ عطا کردیتا ہے ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، ابوہریرہ، اور معاویہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (٥٦٦٧) ، وانظر مسند احمد (١/٣٠٦) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : دین کی سمجھ سے مراد کتاب و سنت کا علم ، ذخیرہ احادیث میں صحیح ، ضعیف اور موضوع روایات کا علم ، اسلامی شریعت کے احکام و مسائل کا علم اور حلال و حرام میں تمیز پیدا کرنے کا ملکہ ہے ، اس نظر یہ سے اگر دیکھا جائے تو صحابہ کرام ، محدثین عظام سے بڑھ کر اس حدیث کا مصداق اور کون ہوسکتا ہے ، جنہوں نے بےانتہائی محنت کر کے احادیث کے منتشر ذخیرہ کو جمع کیا اور پھر انہیں مختلف کتب و ابواب کے تحت فقہی انداز میں مرتب کیا ، افسوس صد افسوس ایسے لوگوں پر جو محدثین کی ان خدمات جلیلہ کو نظر انداز کر کے ایسے لوگوں کو فقیہ گردانتے ہیں جن کی فقاہت میں کتاب و سنت کی بجائے ان کی اپنی آراء کا زیادہ دخل ہے جب کہ محدثین کرام نے اپنی آراء سے یکسر اجتناب کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (220)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2645
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He to whom Allah intends to do good is given by Allah an understanding of religion.” [Ahmed 2791]
Top