الدخان

تدبرِ قرآن

مولانا امین احسن اصلاحی

تعارف

ا ۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق اس سورة کا قرآنی نام دہی ہے جو سابق سورة کا ہے اور اس کی تمہید بھی اصل مدعا کے اعتبار سے تقریباً وہی ہے جو سابق سورة کی ہے۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ سابق سورة میں توحید کے دلائل کا پہلو نمایاں ہے اور اس میں توحید کے دلائل کے بجائے انذار کا پہلو غالب ہے۔ پوری سورة پر تدبر کی نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں قرآن اور رسالت کا اثبات اس پہلو سے ہے کہ قرآن منکرین کو جس انجام کی خبر دے رہا ہے وہ دنیا میں بھی شدنی ہے اور آخرت میں بھی۔ تاریخ اس کی شہادت دے رہی ہے اور یہی عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ سابق سورة کی آخری آیت میں یہ جو فرمایا ہے کہ فاصفح عنھم وقل سلام فسوف یعلمون (الزخرف :89) (ان کو نظر انداز کرو اور کہو میرا سلام لو، پس یہ عنقریب جان لیں گے) اس سورة میں اس تہدید کے دلائل و قرائن کی وضاحت ہے۔ گروپ کی آگی کی سورتوں میں یہ مضمون زیاہ واضح ہوتا جائے گا۔ یہاں تک کہ گروپ کے آخر میں جو مدنی سورتیں ہیں ان میں قریش کے عزل اور اہل ایمان کی نفرت اور ان کے غلبہ کا بالکل قطعی الفاظ میں اعلان فرما دیا گیا ہے۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (16-1) قرآن کی عظمت و شان اور اس کے اہتمام نزول کی طرف اشارہ کہ یہ مبارک لیلتہ القدر میں اتارا گیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمام امور مصلحت کی تقسیم ہوتی ہے۔ یہ خدائے سمیع وعلیم کی رحمت و ربوبیت کے تقاضوں سے ظہور میں آیا ہے جس کے سوا کوئی رب نہیں اور مقصود اس کے اتارنے سے انذار ہے کہ جو لوگ غفلت میں پڑے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں وہ جاگیں اور جو دن آنے والا ہے اس کے لئے تیاری کریں۔ جو لوگ رسول کی صداقت کے لئے یہ شرط ٹھہراتے تھے کہ ان کو عذاب دکھا دیا جائے، ان کو تنبیہ کو عذاب دیکھ لینے کے بعد جو ایمان لایا جاتا ہے وہ سود مند نہیں ہوتا۔ اگر عذاب کے آنے میں اس وقت تاخیر ہو رہی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ عذاب کی دھمکی محض دھمکی ہے۔ اگر اللہ نے یہاں لوگوں کو مہلت دے بھی دی تو اس سے وہ خدا کے عذاب سے محفوظ نہیں ہوجائیں گے۔ ان کی پکڑ لازماً آخرت میں ہوگا اور یہ بالکل مبنی بر انصاف ہوگا۔ اہل کفر اپنی ناشکریوں کی سزا بھگتیں گے اور اہل ایمان اپنی نیکیوں کا پورا پورا صلہ پائیں گے اور یہی اصل کامیابی ہے نہ کہ وہ جس پر یہ نادان ریجھے ہوئے ہیں۔ (59-58) خاتمہ سورة ، جس میں اس احسان عظیم کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ ہے جو قرآن کو عربی مبین میں نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے قریش اور اہل عرب پر فرمایا۔ واضح رہے کہ قرآن کی عظمت کے بیان ہی سے اس سورة کا آغاز ہوا تھا اور اسی مضمون پر اس کا خاتمہ بھی ہوا ہے۔ اس میں قریش کو یہ تنبیہ ہے کہ ان پر اتمام حجت کے لئے اللہ نے اس کتاب کو تمام ضروری لوازم سے آرساتہ کر کے بھیجا ہے۔ اگر انہوں نے اس کی قدر نہ کی تو اس انجام سے دوچار ہونے کے لئے تیار رہیں جو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے لئے مقدر ہے۔ آخری آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی بھی دی گی ہے کہ اگر یہ لوگ اس نعمت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے عذاب ہی کے منتظر ہیں تو تم بھی ان کے لئے اب اس روز بدہی کا انتظار کرو۔