Aasan Quran - Saad : 10
اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ
اَمْ لَهُمْ : کیا ان کے لیے مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَمَا بَيْنَهُمَا ۣ : اور جو ان دونوں کے درمیان فَلْيَرْتَقُوْا : تو وہ چڑھ جائیں فِي الْاَسْبَابِ : رسیوں میں (رسیاں تان کر)
یا پھر آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کی بادشاہت ان کے قبضے میں ہے ؟ (4) پھر تو انہیں چاہیے کہ رسیاں تان کر اوپر چڑھ جائیں۔ (5)
4: مطلب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی نبوت پر یہ لوگ اس طرح اعتراضات کر رہے ہیں جیسے نبوت جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک حصہ ہے، ان کے اپنے اختیار میں ہے کہ جسے یہ چاہیں اسے نبی بنایا جائے، اور جسے یہ ناپسند کریں، اسے نبوت نہ دی جائے۔ 5: یعنی اگر یہ اتنے وسیع اختیارات کے مالک ہیں تو ان میں رسیاں تان کر آسمان پر چڑھنے کی بھی طاقت ہونی چاہیے، جو ظاہر ہے کہ انہیں حاصل نہیں ہے، اس لیے آسمان و زمین کی معلومات پر انہیں کیا اختیار ہوگا جس کی بنا پر وہ یہ رائے دیں کہ فلاں کو نبی بنایا جائے اور فلاں کو نہ بنایا جائے۔
Top