Aasan Quran - Saad : 28
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ
اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے كَالْمُفْسِدِيْنَ : ان کی طرح جو فساد پھیلاتے ہیں فِي الْاَرْضِ ۡ : زمین میں اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں كَالْفُجَّارِ : فاجروں (بدکرداروں) کی طرح
جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں کیا ہم ان کو ایسے لوگوں کے برابر کردیں جو زمین میں فساد مچاتے ہیں ؟ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے ؟ (13)
13: یہ آخرت کے ضروری ہونے کی دلیل ہے، اور پچھلی آیتوں سے اس کا ربط یہ ہے کہ جب ہم نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے خلیفہ کی حیثیت میں یہ حکم دیا ہے کہ وہ عدل و انصاف سے کام لیں تو کیا ہم خود انصاف نہیں کریں گے ؟ اسی انصاف کے لیے آخرت میں حساب و کتاب ہوگا، ورنہ یہ لازم آئے گا کہ ہم نے نیک لوگوں اور بدکاروں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا، اور دنیا میں چاہے کوئی شخص اچھے کام کرے یا بدکاری کا مرتکب ہو، نہ اس سے کوئی باز پرس ہونی ہے اور نہ نیک آدمی کو کوئی انعام ملنا ہے۔ ایسی بےانصافی اللہ تعالیٰ کیسے گوارا فرما سکتے ہیں ؟
Top