Aasan Quran - Saad : 33
رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ
رُدُّوْهَا : پھیر لاؤ انہیں عَلَيَّ ۭ : میرے سامنے فَطَفِقَ : پھر شروع کیا مَسْحًۢا : ہاتھ پھیرنا۔ صاف کرنا بِالسُّوْقِ : پنڈلیوں پر وَالْاَعْنَاقِ : اور گردنوں
(اس پر انہوں نے کہا) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ، چنانچہ وہ (ان کی) پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ (15)
15: حضرت سلیمان ؑ کے سامنے وہ بہترین گھوڑے پیش کیے گئے جو جہاد کے مقصد سے اکٹھے کئے گئے تھے اور ان سے آپ کی سلطنت کی شان و شوکت کا مظاہر ہورہا تھا، آپ نے جب ان کا معاینہ فرمایا تو یہ شان و شوکت آپ کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ کرسکی، بلکہ آپ نے فرمایا کہ مجھے اس دولت سے محبت اس لیے نہیں ہے کہ اس سے میرے دبدبے کا اظہار ہوتا ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ یہ جہاد کے لیے تیار کیے گئے ہیں، اور جہاد اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیا جاتا ہے۔ پھر وہ گھوڑے چلتے ہوئے آپ کی نگاہوں سے روپوش ہوگئے تو آپ نے انہیں دوبارہ بلوایا، اور ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگے۔ اس واقعے کو ذکر فرما کر قرآن کریم نے یہ سبق دیا ہے کہ انسان کو دنیا کی دولت یا عزت و شوکت حاصل ہو تو اسے مغرور ہونے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہونے کے بجائے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور اسے ان کاموں میں استعمال کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہوں۔ اس آیت کی یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے اور قرآن کریم کے الفاظ سے وہ زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے۔ حافظ ابن جریر طبری اور امام رازی وغیرہ نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے آیت اور اس کے واقعے کی ایک اور تفسیر کی ہے جو زیادہ مشہور ہے، اور وہ یہ کہ گھوڑوں کے معاینے کے دوران آپ کی نماز قضا ہوگئی تھی، جس پر آپ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ اس دولت کی محبت نے مجھے اللہ تعالیٰ کی محبت سے غافل کردیا، اس لیے انہوں نے گھوڑوں کو واپس بلوا کر انہیں اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کرنے کا ارادہ کیا، اور تلوار سے ان کی پنڈلیا اور گردنیں کاٹنی شروع کردیں۔ اس تفسیر کے مطابق آیت کا ترجمہ بالکل مختلف اس طرح ہوگا : جب ان کے پاس اچھی نسل کے عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے تو انہوں نے کہا کہ اس دولت کی محبت نے مجھے اللہ کی محبت سے غافل کردیا، یہاں تک کہ وہ گھوڑے اوٹ میں چلے گئے (تو انہوں نے کہا :) انہیں واپس لاؤ : پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر (تلوار سے) ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا۔
Top