Tibyan-ul-Quran - An-Nisaa : 129
مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا
مَآ : نہیں اَشْهَدْتُّهُمْ : حاضر کیا میں نے انہیں خَلْقَ : پیدا کرنا السَّمٰوٰتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَلَا خَلْقَ : نہ پیدا کرنا اَنْفُسِهِمْ : ان کی جانیں (خود وہ) وَمَا كُنْتُ : اور میں نہیں مُتَّخِذَ : بنانے والا الْمُضِلِّيْنَ : گمراہ کرنے والے عَضُدًا : بازو
یاد کرو، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا وہ جنوں میں سے تھا اس لیے اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا اب کیا تم مجھے چھوڑ کر اُس کو اور اس کی ذرّیّت کو اپنا سرپرست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں؟ بڑا ہی برا بدل ہے جسے ظالم لوگ اختیار کر رہے ہیں
[وَاِذْ : اور جب ] [قُلْنَا : ہم نے کہا ] [لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں سے ] [اسْجُدُوْا : تم لوگ سجدہ کرو ] [لِاٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) کو ] [فَسَجَدُوْٓا : تو ان سب نے سجدہ کیا ] [اِلَّآ : سوائے ] [اِبْلِيْسَ : ابلیس کے ] [كَان : وہ تھا ] [مِنَ الْجِنِّ : جنوں میں سے ] [فَفَسَقَ : تو وہ نکل گیا ] [عَنْ اَمْرِ رَبِهٖ : اپنے رب کے حکم (کی اطاعت) سے ] [اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ : تو کیا تم لوگ بناتے ہو اس کو ] [وَذُرِّيَّتَهٗٓ: اور اس کی اولاد کو ] [اَوْلِيَاۗءَ : کارساز ] [مِنْ دُوْنِيْ : میرے علاوہ ] [وَ : حالانکہ ] [هُمْ : وہ سب ] [لَكُمْ : تم لوگوں کے ] [عَدُوٌّ: دسمن ہیں ] [بِئْسَ : کتنا برا ہے یہ ] [لِلظّٰلِمِيْنَ : ظالموں کے لئے ] [بَدَلًا : بلحاظ بدل کے (یعنی بدلے میں لی ہوئی چیز کے)] نوٹ۔ 1: اس سلسلۂ کلام میں قصّہ آدم و ابلیس کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود گمراہ انسانوں کو ان کی اس حماقت پر متنبہ کرنا ہے کہ وہ اپنے رحیم و شفیق پروردگار اور خیرخواہ پیغمبروں کو چھوڑ کر اپنے اس ازلی دشمن کے پھندے میں پھنس رہے ہیں جو ازل سے ان کے خلاف حسد رکھتا ہے (تفہیم القرآن) ۔ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بدلا۔ یہ جملہ اظہار تعجب اور اظہار افسوس کا ہے کہ ان ظالموں نے خدا کا بدل بھی ڈھونڈا تو اپنے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کے ابدی دشمن کو۔ یہ شامت زدگی کی آخری حد ہے۔ (تدبر قرآن) ۔
Top