Ahkam-ul-Quran - Saad : 18
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ
اِنَّا سَخَّرْنَا : بیشک ہم نے مسخر کردیے الْجِبَالَ : پہاڑ مَعَهٗ : اس کے ساتھ يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت وَالْاِشْرَاقِ : اور صبح کے وقت
ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کردیا تھا کہ صبح و شام ان کے ساتھ (خدائے) پاک (کا ذکر) کرتے تھے
پہاڑوں کی تسبیح قول باری ہے (انا سخرنا الجبال معہ۔ ہم نے پہاڑوں کو ان کا تابع فرمان بنادیا تھا) ایک قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو حضرت دائود (علیہ السلام) کے تابع فرمان اس طرح بنادیا تھا کہ یہ پہاڑ ان کے ساتھ چلتے تھے۔ پہاڑوں کے اس چلنے کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تسبیح قرار دیا تھا کیونکہ اللہ کی تسبیح کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی ذات کو ان تمام باتوں سے پاک رکھا جائے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ جب پہاڑوں کے چلنے کو اس بات کی نشانی قرار دیا گیا کہ وہ اللہ کی تنزیہ کرتے ہیں تو اسے اللہ کے لئے ان کی تسبیح کہا گیا۔ چاشت (اشراق) کی نمازحضور ﷺ نے کبھی پڑھی کبھی نہیں پڑھی قول باری ہے (یسبحن بالعشی والاشراق (پہاڑ) صبح وشام تسبیح کیا کرتے تھے) معمر نے عطاء خرسانی سے روایت کی ہے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” میرے دل میں چاشت کی نماز کے متعلق ہمیشہ خلجان رہتا تھا یہاں تک کہ میں نے قول باری (انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی والاشراق) کی تلاوت کی، اس آیت کی وجہ سے میرے دل کا خلجان دور ہوگیا۔ قاسم نے حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ ایک مرتبہ اہل قبا کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت وہ چاشت کی نماز میں مشغول تھے۔ آپ نے فرمایا (ان صلوۃ الاوابین اذارمضت الفصال من الضحیٰ ۔ اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب اونٹنی یا گائے کے بچوں کے قدم چاشت کی گرمی کی بنا پر جل اٹھیں) ۔ شریک نے زید بن ابی زیاد سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ” مجھے میری جگری دوست ( حضور ﷺ ) نے تین باتوں کی وصیت فرمائی ہے، چاشت کی نماز کی، سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی اور ہر ماہ تین روزے رکھنے کی۔ مجھے آپ ﷺ نے نماز میں مرغے کی طرح ٹھونگیں مارنے اور لومڑی کی طرح دائیں بائیں دیکھنے اور کتے کی طرح بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ “ عطیہ نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ مسلسل چاشت کی نماز پڑھتے رہتے یہاں تک کہ یہ خیال ہوتا کہ شاید اب آپ یہ نماز نہیں چھوڑیں گے، پھر آپ اسے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ یہ خیال پیدا ہوجاتا کہ شاید اب آپ ﷺ یہ نماز کبھی نہیں پڑھیں گے۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ام ہانی ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے چاشت کی نماز پڑھی تھی۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے یہ نماز نہیں پڑھی تھی۔ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے ” لوگوں نے جو جو نئی باتیں پیدا کی ہیں ان میں چاشت کی نماز میرے نزدیک سے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ “ ابن ابی ملیکہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ان سے چاشت کی نماز کے متعلق جب پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ نماز تو کتاب اللہ میں موجود ہے لیکن اس نماز تک صرف کسی غواص (غوطہ خور یعنی کتاب اللہ کے بحرز خار میں غوطہ لگانے والے) کو ہی رسائی ہوسکتی ہے۔ پھر انہوں نے آیت (فی بیوت آذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ یسبح لہ فیھا بالغدو والا صال) کی تلاوت فرمائی۔
Top