Ahkam-ul-Quran - Saad : 20
وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ
وَشَدَدْنَا : اور ہم نے مضبوط کی مُلْكَهٗ : اس کی بادشاہت وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے اس کو دی الْحِكْمَةَ : حکمت وَفَصْلَ : اور فیصلہ کن الْخِطَابِ : خطاب
اور ہم نے ان کی بادشاہی کو مستحکم کیا اور ان کو حکمت عطا کی اور (خصومت کی) بات کا فیصلہ (سکھایا)
فصل الخطاب کیا تھا ؟ قول باری ہے (واتیناہ الحکمۃ وفصل الخطاب ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کرنے والی تقریر عطا کی تھی) اشعث نے حسن سے روایت کی ہے کہ مقدمات کے فیصلوں کا علم عطا ہوا تھا ، شریح سے مروی ہے کہ گواہیوں اور قسم اٹھوانے کا علم مراد ہے۔ ابوحصین سے مروی ہے کہ انہوں نے ابو عبدالرحمن سلمی سے روایت کی ہے کہ فصل خطاب کے معنی اہل مقدمات کے درمیان فیصلہ کرنے کے ہیں۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اہل مقدمات کے درمیان حق کی بنیاد پر فیصلے کرنا مراد ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جب حاکم کی عدالت میں کوئی مقدمہ پیش ہو تو اس پر اس کا فیصلہ کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ اس کے لئے فیصلہ کرنے کے عمل کو نظر انداز کرنا جائز نہیں ہوتا۔ یہ چیز ان لوگوں کے قول کو باطل کردیتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ قسم اٹھانے سیانکار کرنے والے کو قید کردیاجائے گا یہاں تک کہ وہ یا تو اقرار کرے یا قسم اٹھالے۔ کیونکہ اس طریق کار سے فیصلے کے عمل کو نظر انداز کردینا اور اس میں تاخیر کرنا لازم آتا ہے۔ شبعی نے زیاد سے روایت کی ہے کہ فصل خطاب کا مفہوم یہ ہے کہ تقریر کی ابتداء میں ” اما بعد “ کا لفظ کہا جائے۔ زیادہ ایسا شخص نہیں ہے جس کے قول کا مسائل کے سلسلے میں اعتبار کیا جائے تاہم شعبی نے روایت کی ہے اس لئے اسکی توجیہہ یہ کی جائے گی کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کتاب کی ابتداء میں ” امابعد “ کے لفظ سے خطبہ کتاب اور اصل کتاب کے درمیان جو کہ کتاب کا مقصود ہوتی ہے قصل کیا جائے۔ جج کیا وصاف اور اس کی احتیاط
Top