Ruh-ul-Quran - Al-Maaida : 22
قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا يٰمُوْسٰٓى : اے موسیٰ اِنَّ فِيْهَا : بیشک اس میں قَوْمًا : ایک قوم جَبَّارِيْنَ : زبردست وَاِنَّا : اور ہم بیشک لَنْ نَّدْخُلَهَا : ہرگز داخل نہ ہوں گے حَتّٰي : یہانتک کہ يَخْرُجُوْا : وہ نکل جائیں مِنْهَا : اس سے فَاِنْ : پھر اگر يَّخْرُجُوْا : وہ نکلے مِنْهَا : اس سے فَاِنَّا : تو ہم ضرور دٰخِلُوْنَ : داخل ہوں گے
اور یتیموں کو آزماتے رہو جب تک کہ وہ نکاح کے قابل ہوں، پس اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو ، اور ان کے مال کو نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں، اور جو کوئی آسودہ ہو تو اس کو بچنا چاہئے، اور اگر کوئی محتاج ہو پس وہ مناسب مقدار سے کھائے، پس جب ان کے مال ان کے سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو
اس کے یہ معنی ہیں کہ یتیم لڑکا لڑکی جب بالغ ہوجاویں اور مال سنبھالنے کے قابل نظر آویں اس وقت ان کا مال دو گواہوں کے رو برو حوالہ کر دو تاکہ آئندہ جھگڑا نہ پڑے۔
Top