Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Baqara : 81
وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ
وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا لَنْ تَمَسَّنَا : ہرگز نہ چھوئے گی النَّارُ : آگ اِلَّا : سوائے اَيَّامًا : دن مَعْدُوْدَةً : چند قُلْ اَتَّخَذْتُمْ : کہ دو کیا تم نے لیا عِنْدَ اللہِ : اللہ کے پاس عَهْدًا : کوئی وعدہ فَلَنْ يُخْلِفَ اللّٰہُ : کہ ہرگز نہ خلاف کرے گا اللہ عَهْدَهُ : اپنا وعدہ اَمْ : کیا تَقُوْلُوْنَ : تم کہتے ہو عَلَى اللہِ : اللہ پر مَا لَا تَعْلَمُوْنَ : جو تم نہیں جانتے
ہاں جو برے کام کرے اور اسکے گناہ (ہر طرف سے) اس کو گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے
(81 ۔ 82): حضرت عبد اللہ بن عباس نے ان آیتوں میں گناہ کے معنی شرک کے لئے ہیں 1۔ اور آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ جو شخص یہود کی طرح کے شرک اور کفر اور گناہوں میں ہمیشہ مبتلا رہ کر بغیر توبہ کے مرجائے گا۔ تو وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ یہ تفسیر بہت سی صحیح حدیثوں کے موافق ہے جن کا مطلب یہ ہے کہ جو مومن گنہگار بغیر توبہ کے مرجائے گا وہ اخیر کو جنت میں جائے گا۔ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا 2۔
Top