Ahsan-ut-Tafaseer - Yaseen : 12
اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠   ۧ
اِنَّا نَحْنُ : بیشک ہم نُحْيِ : زندہ کرتے ہیں الْمَوْتٰى : مردے وَنَكْتُبُ : اور ہم لکھتے ہیں مَا قَدَّمُوْا : جو انہوں نے آگے بھیجا (عمل) وَاٰثَارَهُمْ ڳ : اور ان کے اثر (نشانات) وَكُلَّ : اور ہر شَيْءٍ : شے اَحْصَيْنٰهُ : ہم نے اسے شمار کر رکھا ہے فِيْٓ : میں اِمَامٍ مُّبِيْنٍ : کتاب روشن (لوح محفوظ
بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) انکے نشان پیچھے رہ گئے ہم انکو قلمبند کرلیتے ہیں اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن (یعنی لوح) محفوظ میں لکھ رکھا ہے
12۔ صحیح مسلم میں جابر بن عبداللہ ؓ سے 1 ؎ ترمذی اور حاکم میں ابوسعید خدری ؓ کی روایت 1 ؎ سے اور طبرانی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 65‘ 566 ج 3 وتفسی الدد المنثور ص 260 ج 5) اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک قبیلہ بنی سلمہ کے مکانات مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھے دور سے نماز کے لیے مسجد نبوی میں آنے کے قوت ان لوگوں کو ذرا تکلیف ہوتی تھی اس واسطے انہوں نے چاہا کہ مسجد نبوی کے پاس اپنے نماز کے لیے مسجد نبوی میں آنے کے وقت ان لوگوں کو ذرا تکلیف ہوتی تھی اس واسطے انہوں نے چاہا کہ مسجد نبوی کے پاس اپنے مکانات بنالیویں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور آنحضرت ﷺ نے ان کو اس آیت کا مطلب سمجھا کر فرمایا کہ دور سے نماز کے لیے تمہارے ایک ایک قدم کا ثواب لکھا جاتا ہے اس واسطے تم اپنے مکانوں کو دور ہی رکھو حافظ ابن کثیر اور بعضے مفسروں نے اس شان نزول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ سورة بالا تفاق مکی سورتوں میں سے مدنی آیتوں کو ایک گیا ہے انہوں نے سورة یسٰین میں سے اس آیت اور آیت واذاقیل لہم انفقوا کو مدنی قرار دیا ہے غرض جن علماء نے اس شان نزول کو بغیر اعتراض کے قائم رکھا ہے انہوں نے لفظ آثار کی تفسیر نقش قدم سے کی ہے۔ صدقہ جاریہ اور جن علماء نے اس شان نزول پر اعتراض کیا ہے انہوں نے آثار کی تفسیر صدقہ جاریہ سے کی ہے صدقہ جار یہ وہ نیک کام ہے جو آدمی کے مرجانے کے بعد دنیا میں باقی رہے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 565 ج 3) جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب وقت کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے نیک عمل بند ہوجاتے ہیں مگر کوئی صدقہ جاریہ وہ چھوڑ جاوے تو اس کا ثواب باقی رہتا ہے جس طرح مثلاً کوئی مسجد یا کنواں بنا کر چھوڑ جاوے کوئی علم دین کی ایسی کتاب چھوڑ جاوے جس سے لوگوں کو نفع پہنچے یا ایسی نیک اولاد چھوڑ جاوے جو اس کے حق میں دعا خیر کرے اس آیت کی تفسیر میں علماء کے یہ دو قول ہیں اس واسطے فارسی 3 ؎ اور اردو ترجمہ میں بھی اختلاف ہے (3 ؎ یعنی شاہ ولی اللہ نے فتح الرحمن میں نقش اقدام ایشان “ ترجمہ کیا ہے (ع ‘ ح) فارسی ترجمہ میں پہلا قول لیا گیا ہے اور دونوں اردو ترجموں میں پچھلا قول ہے۔ مجاہد کے قول کے موافق امام مبین کے معنے لوح محفوظ کے ہیں جس کی پیروی کی جائے اس کو امام کہتے ہیں۔ لوح محفوظ کے نوشتہ کی پیروی کے طور پر اللہ کے فرشتے سب کام چلاتے ہیں اس لیے لوح محفوظ کو امام مبین فرمایا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ جینا ایک نیک و بد عمل اور ان کی جزا و سزا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے یہ سب کچھ علم الٰہی کے موافق لوح محفوظ میں لکھا جاچکا ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ 1 ؎ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت اوپر گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس 50 ہزار برس پہلے اپنے علم الٰہی کے نتجیہ کے طور پر تمام مخلوقات کا حال اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے ‘ یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ میت میں سب چیزوں کو لوح محفوظ میں لکھے جانے کا جو ذکر ہے وہ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے لکھا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ علم الٰہی تو قدیمی ہے لیکن اس قدیمی علم کا نتیجہ دنیا کے پیدا ہونے سے بچ اس ہزار برس پہلے لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے۔
Top