Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 18
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ
اِنَّا سَخَّرْنَا : بیشک ہم نے مسخر کردیے الْجِبَالَ : پہاڑ مَعَهٗ : اس کے ساتھ يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت وَالْاِشْرَاقِ : اور صبح کے وقت
ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کردیا تھا کہ صبح و شام ان کے ساتھ (خدائے) پاک (کا ذکر) کرتے تھے
18۔ 24۔ ذالاید کے معنی صاحب قوت حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ دائود (علیہ السلام) کی قوت عبادت الٰہی میں بڑھی ہوئی تھی اس لئے ان کو صاحب قوت فرمایا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں عبد ؓ اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے (1 ؎ صحیح بخاری باب من نام عند السحر ص 152 ج 1) رسول ﷺ نے فرمایا۔ دائود (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ اور ایک دن کھانا کھایا کرتے تھے۔ اسی طرح آدھی رات سویا کرتے تھے۔ اور آدھی رات عبادت کیا کرتے تھے۔ اس حدیث سے عبد ؓ اللہ بن عباس کے قول کی پوری تائید ہوتی ہوے۔ نیک کاموں میں جو لگا اور برے کاموں سے بچتا رہے اس کو اواب کہتے ہیں۔ دائود (علیہ السلام) جب صبح شام ذکر الٰہی کرتے تھے۔ ان کے ساتھ پہاڑ اور جانور بھی ذکر الٰہی کیا کرتے تھے۔ اور دائود (علیہ السلام) پہاڑوں اور جانوروں کے ذکر الٰہی کا مطلب سمجھتے تھے۔ اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے دائود (علیہ السلام) کی سلطنت کو قوت دی۔ سورة بقر میں یہ قصہ گزر چکا ہے۔ کہ دائود (علیہ السلام) نے مدد الٰہی سے جالوت بادشاہ کو کیوں کر قتل کیا۔ اور طالوت بادشاہ کے انتقال کے بعد بادشاہت اور حضرت شمویل کی وفات کے بعد نبوت یہ سب کچھ دائود (علیہ السلام) کے خاندان میں کس طرح آیا اسی مدد غیبی کو سلطنت کی قوت فرمایا یہاں حکمت کے معنی نبوت کے ہیں اور فصل خطاب کے معنی مقدمات کے فیصلہ کرنے کی پوری سمجھ۔ فارسی اور اردو فائدہ میں یہ قصہ لکھا ہے کہ ایک عورت پر دائود (علیہ السلام) کی نظر پڑگئی جس سے نکاح کرنے کا خیال ان کے جی میں جم گیا اس عورت کا خاوند دائود (علیہ السلام) کے لشکر میں تھا اس کو تابوت سکینہ کے آگے رہنے پر تعینات کیا یہ بڑے معرکہ کی تعیناتی تھی اس لئے وہ شہید ہوگیا اس کے بعد دائود (علیہ السلام) نے اسکی بی بی سے نکاح کرلیا یہ قصہ مصنف ابن 2 ؎ ابی شبیہ تفسیر ان ابی حاتم اور مستدرک حاکم میں ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح بھی کہا ہے لیکن حافظ ابن کثیر نے اس قصہ کی روایت کو بنی اسرائیل کی روایتوں میں شمار کر کے یہی فیصلہ کیا ہے۔ کہ قرآن شریف میں اسی قدر قصہ ہے کہ دائود (علیہ السلام) نے اس عورت کے خاوند سے یہ خواہش کی کہ وہ اپنی بی بی کو طلاق دے دے۔ اس سے زیادہ کوئی بات قرآن شریف یا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہوتی۔ تابوت سکینہ کا قصہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے ان آیتوں میں جو قصہ ہے اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ ایک رات کو خلاف عادت دائود (علیہ السلام) کے عبادت خانہ میں دو شخص دیوار کود کر آگئے۔ تفسیر مقاتل میں ہے کہ یہ جبرئیل (علیہ السلام) اور میکائیل (علیہ السلام) تھے جو آدمی کی شکل میں آئے تھے ان دونوں شخصوں کے بےوقت دیوار کود کر آنے دائود (علیہ السلام) پریشان ہوگئے۔ ان دونوں شخصوں نے دائود (علیہ السلام) سے کہا پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ہم تو اہل مقدمہ ہیں۔ ایک مقدمہ کے فیصلہ کے لئے تمہارے پاس آئے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ فیصلہ روداد مقدمہ کے موافق صحیح ہونا چاہئے۔ مقدمہ کی رو داد یہ ہے کہ اس میرے دینی بھائی کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دنبی ہے۔ لیکن یہ میرا دینی بھائی یہ کہتا ہے کہ میں اپنی وہ ایک دنبی بھی اس کے حوالہ کر دوں اور میرے اس دینی بھائی کی بات چیت ایسی زبردست ہے کہ میں اس کی بات کو ٹال نہیں سکتا۔ مقدمہ کی یہ روداد سن کر دائو (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ کیا کہ جو شخص ننانوے دنبیاں رکھ کر پھر اپنے دینی بھائی کے پاس ایک دنبی بھی نہیں دیکھ سکتا وہ بڑی ناانصافی کرتا ہے۔ اس فیصلہ کے دائود (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ ایک معاملہ میں جہاں چند شخص شریک ہوتے ہیں وہاں اکثر شریک لوگ آپس میں ایسی ہی زیادتیاں کرتے رہتے ہیں۔ تھوڑے بندے اللہ کے ایسے ہیں جو اس طرح کی زیادتیوں سے بچتے رہتے ہیں۔ (2 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 300 ج 5)
Top