Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے
41۔ 43۔ بعضے علما کا قول ہے کہ ایوب (علیہ السلام) انبیا بنی اسرائیل میں سلیمان (علیہ السلام) کے بعد نبی آئے ہیں۔ قرآن شریف کی اس سورة میں اور سورة الانبیاء میں ایوب (علیہ السلام) کا قصہ سلیمان (علیہ السلام) کے بعد ہے۔ اس سے اس قول کی تائید بھی ہوتی ہے۔ لیکن ابن عساکر میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) لوط (علیہ السلام) کے نواسے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے انبیا میں ہیں۔ ایوب (علیہ السلام) بہت صاحب اولاد اور صاحب مال تھے۔ ترمذی 1 ؎ اور ابن ماجہ میں سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے۔ اس عادت الٰہی کے موافق ایوب (علیہ السلام) کی یہ آمازئش ہوئی کہ ان کی اولاد سب مرگئی سارا مال برباد ہوگیا۔ خود ایسے بیمار ہوئے کہ تمام بدن میں کیڑے پڑگئے۔ بستی کے لوگوں نے بستی سے باہر ایک کونے میں ان کو ڈال دیا۔ سو ان کی بی بی کے اور کوئی ان کا ساتھ دینے والا نہ رہا۔ تیرہ یا اٹھارہ برس تک یہی حال رہا۔ ایوب (علیہ السلام) کا صبر اس لئے مشہور ہے کہ وہ اس سخت آزمائش میں گھبرائے نہیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ ان کی بی بی کا نام رحمت 2 ؎ تھا۔ اور وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بیٹی یا پوتی تھیں۔ صحیح سند سے مسند بزار مستدرک حاکم صحیح ابن حبان 3 ؎ میں انس بن مالک سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کے ایک دوست کی زبان سے ایک دن جب یہ کلمہ نکلا کہ ایوب (علیہ السلام) سے کوئی ایسا بڑا گناہ ہوا ہے جو تیرہ یا اٹھارہ برس کی تکلیف میں بھی معاف نہیں ہوا تو یہ کلمہ سن کر ایوب (علیہ السلام) نے وہ دعا کی۔ جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس کے بعد ایوب (علیہ السلام) کو خواب میں یہ حکم ہوا کہ زمین میں لات مارو انہوں نے جب لات ماری تو زمین میں دو چشمے پیدا ہوگئے۔ انہوں نے ایک چشمہ کا پانی پیا اور دوسرے چشمہ کے پانی سے نہا لئے اور فوراً اچھے ہوگئے۔ ایوب 4 ؎ (علیہ السلام) کی بی بی بستی میں جا کر محنت مزوری کیا کرتی تھیں اور کچھ کھانا لے کر خود بھی کھاتی تھیں۔ ایوب (علیہ السلام) کو بھی کھلایا کرتی تھیں جس دن ایوب (علیہ السلام) اچھے ہوگئے۔ اس دن جب وہ کھانا لے کر آئیں تو انہوں نے ایوب (علیہ السلام) کو نہیں پہچانا اور ایوب (علیہ السلام) سے پوچھا کہ یہاں ایک بیمار شخص جو پڑا رہتا تھا۔ اس کا کچھ حال تم کو معلوم ہے کیا اس کو بھیڑیا تو نہیں لے گیا۔ ایوب (علیہ السلام) نے جواب دیا وہ بیمار میں ہی ہوں اللہ تعالیٰ نے میرے صبر کا اجر مجھ دیا کہ مجھے بالکل تندرست کردیا تفسیر ضحاک 5 ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو جوان کردیا اور ان سے 23 بچے ہوئے صحیح بخاری 6 ؎ اور صحیح ابن حبان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کے اچھے ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر سونے کی ٹڈیوں کا مینہ برسایا جس سے ایوب (علیہ السلام) مال دار ہوگئے۔ آخر کو فرمایا امت محمدیہ کے ایماندار عقل مند لوگوں کو مشرکین مکہ کے ستانے پر صفر کرنا اور صبر کے اجر کی امید اس قصہ سے پیدا کرنی چاہئے۔ اگرچہ ایوب (علیہ السلام) کی مدت میں سلف کا اختلاف ہے لیکن تیرہ برس کی مدت کی انس ؓ بن مالک کی روایت کو ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کے نیک عملوں کی کثرت دیکھ کر شیطان کو ایوب (علیہ السلام) سے ایک طرح کی دشمنی ہوگئی تھی اس لئے شیطان نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ مجھ کو ایوب (علیہ السلام) کی اولاد کی ہلاکت اور مال کی بربادی اور صحت جسمانی کی خرابی پر مسلط کیا جاوے تو میں دیکھوں کہ اس آزمائش کے بعد بھی ایوب (علیہ السلام) اپنے نیک عملوں پر قائم رہتے ہیں یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو آزمائش کے سبب سے ایوب (علیہ السلام) کا درجہ بڑھانا منظور تھا۔ اس واسطے ایوب (علیہ السلام) نے انی مسنی الشیطن کہا۔ لیکن حافظ ابن کثیر وغیرہ نے اس قول کو ضعیف ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ انبیا پر شیطان کا اس طرح کا تسلط اللہ کی شان سے بعید ہے۔ سورة بنی اسرائیل کی آیت ان عبادی لیس لک علیھم سلٰطن سے حافظ ابن کثیر کے اعتراض کی پوری تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ اس آیت کا مطلب بھی وہی ہے جو حافظ ابن کثیر کے اعتراض کا مطلب ہے اس واسطے آیت کی تفسیر ان ہی علمائے سلف کے قول کے موافق صحیح معلوم ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مال داری کے زمانہ میں شیطانی وسوسہ سے ایوب (علیہ السلام) مال داری کی حالت کو ذرا اچھا جاننے لگے تھے اس پر ان کو یہ تکلیف پہنچی اور اسی شیطانی وسوسہ کو انہوں نے تکلیف کا سبب ٹھہرا کر انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب کہا صحیح بخاری 2 ؎ اور موطا میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس کسی کو اللہ تعالیٰ عقبے میں بڑا درجہ دینا چاہتا ہے۔ اس کو دنیا میں طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا کرکے ان مصیبتوں پر صبر کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ جس سے اس صبر کے اجر میں وہ شخص عقبے میں بڑا درجہ پانے کا مستحق ہوجاتا ہے۔ اس حدیث کو ایوب (علیہ السلام) کے قصہ کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کے حال پر اللہ تعالیٰ کی بڑی مہربانی تھی کہ اس نے دنیا میں ان کو طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا کر کے صبر کی توفیق دی۔ جس سے ان کے عقبے میں رتبہ بڑھا اب کسی دیندار آدمی پر کوئی دنیوی تکلیف گزرے تو اسے توفیق صبر کی دعا مانگنی چاہئے اور ثابت قدم رہ کر اس تکلیف سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ اس تکلیف کی حالت پر صبر کرنے سے عقبے میں بڑا ثواب ملے گا۔ چناچہ طبرانی کبیر کے حوالہ 3 ؎ سے حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی صحیح حدیث ایک جگہ سے گزر چکی ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جب مصیبتوں پر صبر کرنے والے لوگوں کو صبر کا اجر امید سے بڑھ کر ملے گا تو بےصبرے لوگ یہ کہیں گے کہ دنیا میں کوئی ہماری بوٹیاں قینچی سے کترتا اور ہم اس تکلیف پر صبر کرتے تو اچھا ہوتا کہ آج ہم بھی بڑے اجر کے مستحق ٹھہرتے۔
Top