Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 82
قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ
قَالَ : اس نے کہا فَبِعِزَّتِكَ : سو تیری عزت کی قسم لَاُغْوِيَنَّهُمْ : میں ضرور انہیں گمراہ کروں گا اَجْمَعِيْنَ : سب
کہنے لگا کہ مجھے تیری عزت کی قسم میں ان سب کو بہکاتا رہوں گا
82۔ 88۔ مسند امام 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں معتبر سند کی ابو سعید ؓ خدری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ شیطان نے قسم کھا کر اللہ تعالیٰ سے کہا کہ انسان کے جسم میں جس وقت تک جان رہے گی۔ اس وقت تک میں ہر ایک انسان کے بہکانے میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر اس ملعون کے جواب میں فرمایا کہ جب تک انسان کے جسم میں جان رہے گی۔ اور انسان گناہ کر کے توبہ استغفار کرتا رہے گا۔ میں بھی ہمیشہ اس کے گناہ معاف کرتا رہوں گا۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ کیونکہ آیت میں فقط شیطان کا قول ہے۔ اور حدیث میں شیطان کا قول بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس ملعون کے قول کا قسم کھا کر جو جواب دیا ہے وہ بھی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر مرض پیدا کر کے اس مرض کی دوا بھی پیدا کردی ہے۔ اسی طرح آزمائش کے طور پر شیطان کو پیدا کر کے خدا تعالیٰ نے اس کا علاج بھی پیدا کردیا ہے۔ جس علاج کی تاثیر کو قسم کھا کر اپنے بندوں کو اس نے سمجھایا ہے۔ اب جو شخص گناہ کرے اور توبہ پر آمادہ نہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی سخت مرض میں گرفتار ہو اور دوا کرنے سے دم چرائے۔ اب اس طرح کے بیمار کا جو انجام ہونے والا ہے وہی اس گناہ گار کا حال ہونے والا ہے۔ چناچہ توبہ کرنے والے اور نہ کرنے والے لوگوں کی حالت آنحضرت ﷺ نے حدیث میں بیان فرمائی ہے۔ صحیح سند سے ترمذی 3 ؎ نسائی صحیح ابن حبان مستدرک حاکم اور ابن ماجہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب کوئی مسلمان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ پڑجاتا ہے۔ اگر یہ گناہ کرنے والا شخص خالص دل سے اور دوسرا گناہ کرنے سے پہلے توبہ استغفار کرلیتا ہے تو وہ سیاہ داغ مٹ جاتا ہے اور دل صاف ہوجاتا ہے۔ اور اگر بغیر توبہ استغفار کے آدمی گناہ پر گناہ کئے چلا جاتا ہے تو داغ پر داغ پڑتا جاتا ہے۔ اور ان داغوں کی سیاہی دل پر پھیلتی جاتی ہے یہاں تک کہ تمام دل کو زنگ لگ جاتا ہے یہ فرما کر آپ نے یہ آیت پڑھی کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوایکسون۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر توبہ کے گناہ گاروں کے دلوں پر زنگ چھا جاتا ہے۔ اب بعضے لوگ تو ایسے ہیں کہ وہ بالکل توبہ کرتے ہی نہیں اور گناہ پر گناہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ اور بعضے لوگ ایسے ہیں کہ توبہ تو کرتے ہیں مگر اوپری دل سے اس طرح کہ توبہ کرتے وقت بھی ان کے دل میں آئندہ گناہ کی جانب سے پوری نفرت اور بیزاری نہیں ہوتی۔ اس طرح کی توبہ کا کرنا اور نہ کرنا یکساں ہے۔ کیونکہ اوپر توبہ کے ذکر میں گزر چکا ہے کہ توبہ کرتے وقت آدمی کے دل میں آئندہ گناہ نہ کرنے کا قصد ضرور ہونا چاہئے۔ اگر فقط پچھلے گناہ پر آدمی کو ندامت ہوئی اور آئندہ گناہ پر دل للچاتا رہا تو شریعت کے موافق یہ پوری توبہ نہیں ہے۔ بہ نسبت بالکل توبہ نہ کرنے والوں اور اوپری دل سے توبہ کرنے والوں کے خاص دل سے توبہ کرنے والے اللہ کے بندے دنیا میں بہت کم ہیں اور باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت شیطان کے بہکانے کے مرض کا علاج قسم کھا کر فرما دیا ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس علاج کو حسب دل خواہ کام میں نہیں لاتے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے سورة سبا میں فرمایا ہے۔ ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ فاتبعوہ الا فریقآ من المومنین جس کے حاصل معنی یہ ہیں کہ حضرت آدم کو سجدہ نہ کرنے کے دن اپنے راندھے جانے پر شیطان نے جو قسم کھائی تھی کہ جہاں تک ہو سکے گا وہ انسان کو بہکاوے گا۔ اس دن تو وہ قسم اس کی محض گمان کے طور پر تھی لیکن دنیا میں پیدا ہونے کے بعد اس کے بہکانے میں اکثر لوگ آگئے اور اس کا وہ گمان سچا ہوگا ترمذی 1 ؎ وغیرہ کے حوالہ سے حارث ؓ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں لگے رہتے ہیں شیطان ان کو نہیں بہکا سکتا شیطان ملعون کو بھی یہ بات معلوم تھی اس لئے اس نے اپنے بہکانے کی قسم میں سے ایسے لوگوں کو مستثنیٰ کردیا صحیح مسلم مسند ابی 2 ؎ وغیرہ کے حوالہ سے جابر ؓ کی حدیث سورة النسا میں گزر چکی ہے کہ جس شخص کے نامہ اعمال میں شرک نہ ہوگا۔ اور بغیر توبہ کے اور کبیرہ گناہ ہوں گے۔ تو ایسے شخص کی مغفرت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہے بلا کسی مواخذہ کے ایسے شخص کو جنت میں داخل کر دے چاہے کسی قدر مواخذہ کے بعد اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان کے ساتھ ہمیشہ کے لئے وہی لوگ دوزخ میں رہیں گے جن کے نامہ اعمال میں بغیر توبہ کا شرک ہوگا۔ کبیرہ گناہوں والا کلمہ گو اگر بغیر توبہ کے مرجاوے گا۔ تو ہمیشہ دوزخ میں نہ رہے گا۔ اپنے مذہب معتزل کی تائید کے لئے صاحب کشاف نے کبیرہ گناہ کے کلمہ گو کے ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا مطلب جو ان آیتوں سے نکالا ہے۔ وہ جابر ؓ کی اوپر کی صحیح حدیث اور علاوہ اس کے اور صحیح حدیث کے برخلاف ہے۔ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دو کہ میں اس قرآن کی نصیحت پر تم لوگوں سے کچھ مزدوری نہیں مانگتا جس کے بوجھ سے تم قرآن کی نصیحت کے سننے سے بھاگتے ہو اور ایک مدت سے میں تم لوگوں میں رہتا ہوں تم کو میری عادت معلوم ہے کہ میں اپنے دل سے بنا کر کوئی بات نہیں کہتا اور قرآن کے مضمون کو بھی رات دن سنتے ہو کہ اس میں کوئی بات شاعروں کی بناوٹ کی نہیں۔ بلکہ اس میں تو سارے جہاں کے لئے نصیت کی باتیں ہیں اس پر بھی تم لوگ مجھ کو جھوٹا شاعر اور قرآن کو شعر جو کہتے ہو یہ تمہاری زبردستی ہے اگر تم لوگ اپنی باتوں سے باز نہ آتے تو کچھ دنوں کے بعد اس کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑے گا تفسیر سدی میں ہے کہ اس وعدہ کا ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ہوا صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ مشرکین مکہ کے بڑے بڑے قرآن کے جھٹلانے والے بدر کی لڑائی میں نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے۔ جس عذاب کے جتانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پالیا۔ اس حدیث سے سدی کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے بھی مکی سورتوں کے اس طرح کے وعدہ کا ظہور بدر کی لڑائی کو قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی عزت اور تعظیم تمام مخلوقات پر واجب ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو نہ مانا۔ اس نے اس کی عزت اور تعظیم کو نہ مانا۔ حاصل یہ ہے کہ شیطان نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور اسی جرم کی سزا میں وہ گمراہ ہوا تو اس کی گمراہی کا سبب کیا ہے۔ وہی اللہ تعالیٰ کی عزت کی ناقدری اسی واسطے ان آیتوں میں ذکر ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ کی عزت کی قسم کھائی اور سورة الاعرف میں ذکر تھا کہ شیطان نے اپنی گمراہی کے سبب کی قسم کھائی۔ حقیقت میں دونوں جگہ کی قسموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی عزت ہے فرق اتنا ہی ہے کہ ایک جگہ عزت کے اثر کی قسم ہے اور دوسری جگہ خود عزت کی۔ غرض دونوں آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں۔ کیونکہ دونوں آیتوں کو ملا کر یہ مطلب ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی اس عزت کی قسم ہے۔ جس کو نہ ماننا گمراہی کا سبب ہے۔ (2 ؎ بحوالہ منکوۃ شریف باب الاستغفار والتوبہ ص 404 ) (2 ؎ بحوالہ منکوۃ شریف باب الاستغفار والتوبہ ص 404 ) (3 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة متففین ص 191 ج 2) (1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء مثل الصلوۃ الصیام و الصدقۃ 128 ج 2) (2 ؎ صحیح مسلم باب الدلیل علی من مات لایشرک بالللہ دخل الجنۃ ص 66 ج 1)
Top