احسن التفاسیر

Ahsan-ut-Tafaseer · 4. An-Nisaa · Ayah 41

  1. فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ﴿41﴾

    1. فَكَيْفَپھر کیسا۔ کیا
    2. اِذَاجب
    3. جِئْنَاہم بلائیں گے
    4. مِنْسے
    5. كُلِّ اُمَّةٍہر امت
    6. بِشَهِيْدٍایک گواہ
    7. وَّجِئْنَااور بلائیں گے
    8. بِكَآپ کو
    9. عَلٰيپر
    10. هٰٓؤُلَآءِان کے
    11. شَهِيْدًاگواہ
Translation · Ahsan-ut-Tafaseer
بھلا اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا (حال بتانے کو) گواہ طلب کریں گے
Tafseer · Ahsan-ut-Tafaseer
(41 ۔ 42) ۔ جس طرح اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی ایک حالت کو بیان فرمایا ہے اسی طرح اس آیت میں ایک دوسری حالت قیامت کے دن کی بیان فرمائی ہے۔ تاکہ سمجھانے بجھانے سے ایک ذراہ برابر جن کو ایمان نصیب ہوا ہے جس طرح ان کی نجات کی حالت معلوم ہوئی ہے۔ اسی طرح جو لوگ باوجود سمجھانے کے حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر اب تک صاحب شریعت انبیاء کو جھٹلاتے رہے ہیں ان کی حالت بھی معلوم ہوجائے۔ بخاری، ابن ماجہ، نسائی، مسند امام احمد بن حنبل میں اس حالت کا جو ذکر ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حساب کے وقت حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ٰ تک کے منکر لوگوں سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ باوجود انبیاء کی ہدایتوں کے تم لوگ منکر کیوں رہے یہ لوگ انبیاء کی ہدایت کا انکار کر کے صاف مکر جائیں گے۔ اور کہیں گے یاللہ ہم کو کسی نے ہدایت نہیں کی اس پر سب انبیاء کہیں گے کہ محمد ﷺ آخر الزماں نبی ہیں ان کی شریعت میں ہر زمانہ کے نبی کی ہدایات کرنے کی تصدیق موجود ہے۔ پھر آنحضرت اور آپ کی امت کے لوگ حاضر کئے جائیں گے۔ اور ان انبیاء کے قول کی گواہی ادا کریں گے 2۔ اس پر نادم ہو کر منکر لوگ جانوروں کو خاک ہوتا ہوا دیکھ کر اپنے خاک ہوجانے کی آرزو کریں گے۔ بعض آثار 1 سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سوا اس گواہی کے آنحضرت ﷺ اپنی امت کی نیکیوں کی گواہی قیامت تک کی ادا فرمائیں گے۔ اسی واسطے امت کے اعمال آپ کے روبرو پیش ہوتے رہتے ہیں تاکہ گواہی کے لئے آپ کو امت کے اعمال کی اطلاع رہے چناچہ چند روایتوں میں آیا ہے کہ جمعہ کے دن تم لوگ درود زیادہ پڑھا کرو کہ اس دن تمہارے درود میرے روبرو پیش کئے جاتے ہیں اگرچہ ان رایتوں کی سند میں تردد ہے لیکن بعض روایتوں کو بعض سے ایک طرح کی قوت ہوجاتی ہے 2 خصوصاً مسند امام احمد ابو داؤد اور نسائی وغیرہ 3 کی اوس بن اوس کی حدیث سے جس کو حاکم نے صحیح کہا ہے 4۔
Ahsan-ut-Tafaseer - 4 : 41