Al-Quran-al-Kareem - Al-Faatiha : 1
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بِ : سے     اسْمِ : نام     اللّٰهِ : اللہ     ال : جو     رَحْمٰنِ : بہت مہربان     الرَّحِيمِ : جو رحم کرنے والا
اللہ کے نام سے جو بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔
صحیح احادیث میں اس کا نام ” فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ ، اَلصَّلَاۃُ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدِ ، اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ ، اَلْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ ، اُمُّ الْقُرْآنِ “ اور ” اُمُّ الْکِتَابِ “ آیا ہے، جیسا کہ فاتحہ کے فضائل کی احادیث میں آ رہا ہے۔ اسماء کی کثرت سورت کے معانی و مطالب کی کثرت کی دلیل ہے۔ سورۂ فاتحہ کے فضائل : ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” ایک دفعہ جبریل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے اوپر زور سے دروازہ کھلنے کی آواز سنی تو سر اٹھایا اور فرمایا : ” یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے یہ کبھی نہیں کھولا گیا۔ “ تو اس سے ایک فرشتہ اترا، پھر فرمایا : ” یہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں اترا۔ “ اس فرشتے نے سلام کہا اور کہا : ” آپ کو دو نوروں کی خوش خبری ہو، جو آپ کو دیے گئے ہیں، آپ سے پہلے وہ کسی نبی کو عطا نہیں ہوئے، فاتحۃ الکتاب اور سورة بقرہ کی آخری آیات۔ آپ ان دونوں میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے وہ چیز آپ کو ضرور عطا کردی جائے گی۔ “ [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل الفاتحۃ۔۔ ] ابوسعید بن معلی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے، میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے مجھے بلایا، میں نہ آیا، یہاں تک کہ میں نے نماز پڑھی، پھر آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمہارے آنے میں کیا رکاوٹ بنی ؟ “ میں نے عرض کیا : ” میں نماز پڑھ رہا تھا۔ “ فرمایا : ” کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کی اور رسول کی دعوت قبول کرو۔ “ پھر فرمایا : ” کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت نہ سکھاؤں ؟ “ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا تو آپ نے فرمایا : ” الحمد للہ رب العالمین ہی ” سبع مثانی “ ہے، (یعنی وہ سات آیتیں ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں) اور یہی القرآن العظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : ( ولقد آتیناک سبعا۔۔ ) : ] ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ ہم اپنے ایک سفر میں تھے، راستے میں اترے تو ایک لڑکی آئی اور کہنے لگی : ” قبیلے کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے لوگ غائب ہیں تو کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے ؟ “ چناچہ اس کے ساتھ ایک آدمی گیا جس کے متعلق ہمیں دم کرنے کا گمان نہیں تھا، اس نے اسے دم کیا تو وہ تندرست ہوگیا۔ سردار نے اسے تیس بکریاں دینے کو کہا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ واپس آیا تو ہم نے اس سے پوچھا : ” کیا تم اچھی طرح دم کرلیا کرتے تھے ؟ “ اس نے کہا : ” نہیں، میں نے صرف ام الکتاب کے ساتھ دم کیا ہے۔ “ ہم نے کہا : ” جب تک ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہ پہنچیں کچھ نہ کرو۔ “ جب ہم مدینہ میں آئے تو ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اسے کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم ہے ؟ (بکریاں) تقسیم کرلو اور میرا حصہ بھی رکھو۔ “ [ بخاری، فضائل القرآن، باب فضل فاتحۃ الکتاب : ] بخاری کی ایک روایت () میں ہے کہ ان لوگوں نے ابوسعید (رض) اور ان کے ساتھیوں کی مہمان نوازی سے انکار کردیا تھا، جب انھوں نے دم کی درخواست کی تو صحابہ (رض) نے یہ کہہ کر کہ تم نے ہماری ضیافت نہیں کی تیس بکریوں کی شرط طے کی تھی۔ مسلم () میں ہے کہ یہ دم کرنے والے ابوسعید خدری (رض) ہی تھے۔ خارجہ بن صلت کے چچا (علاقہ بن صحار تمیمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہو کر اسلام لے آئے، پھر واپس گئے تو ان کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے پاس ایک پاگل آدمی لوہے کی زنجیروں میں بندھا ہوا تھا۔ اس کے گھر والے کہنے لگے : ” تمہارا یہ ساتھی (یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) خیر لے کر آیا ہے تو تمہارے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس کا علاج کرو ؟ “ تو میں نے اسے فاتحۃ الکتاب کے ساتھ دم کیا تو وہ تندرست ہوگیا، انھوں نے مجھے ایک سو بکریاں دیں، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ کو (سارا واقعہ) بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم نے اس کے علاوہ بھی کچھ پڑھا ؟ “ میں نے کہا : ” نہیں ! “ آپ نے فرمایا : ” بکریاں لے لو ! مجھے اپنی عمر کی قسم ! جس نے باطل دم کے ساتھ کھایا (وہ جانے) تم نے تو حق دم کے ساتھ کھایا ہے۔ “ [ أبوداوٗد، الطب، باب کیف الرقٰی : ] ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں : ” جس نے کوئی نماز پڑھی جس میں ام القرآن نہ پڑھی، وہ ناقص ہے۔ “ تین دفعہ فرمایا تو ابوہریرہ (رض) سے کہا گیا : ” ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں۔ “ تو فرمایا : ” اسے اپنے دل میں پڑھو، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں نے ” صلاۃ “ (نماز) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو نصف حصوں میں تقسیم کرلیا ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے سوال کیا۔ تو جب بندہ (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میرے بندے نے میری حمد کی “ اور جب وہ ( الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میرے بندے نے میری ثنا کی “ اور جب وہ ( مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ) کہتا ہے تو وہ فرماتا ہے : ” میرے بندے نے میری تمجید کی (بزرگی بیان کی) “ اور کبھی فرماتا ہے : ” میرے بندے نے (اپنا آپ) میرے سپرد کردیا۔ “ پھر جب وہ (اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ) کہتا ہے تو وہ فرماتا ہے : ” یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے سوال کیا۔ “ پھر جب وہ (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ۝ ۙصِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ ) کہتا ہے تو وہ فرماتا ہے : ” یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے سوال کیا۔ “ [ مسلم، الصلاۃ، باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ فی ۔۔ : ] چند فوائد : جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے مراتب میں فرق ہے، ان میں سے بعض بعض سے افضل ہیں، ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری اولاد آدم کے سردار ہیں، اسی طرح سورة فاتحہ تورات، انجیل اور قرآن کی ہر سورت سے بڑی سورت ہے، اگرچہ بہت سی سورتیں آیات کے اعتبار سے اس سے لمبی ہیں، مگر عظمت میں یہ سب سے بڑھ کر ہے، جیسا کہ آیات میں آیت الکرسی سب سے عظیم آیت ہے، گو اس سے لمبی آیات بہت سی ہیں۔ اس سورت کا نام ” فاتحہ “ اس لیے ہے کہ اس سے کتاب اللہ کا آغاز ہوتا ہے۔ نماز میں قراءت کا آغاز بھی اسی سے ہوتا ہے۔ قاموس میں ہے : ” فَاتِحَۃُ کُلِّ شَیْءٍ اَوَّلُہُ “ ” ہر چیز کا فاتحہ اس کے اوّل کو کہتے ہیں۔ “ اس سورت کا نام ’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ‘ یا ” سُوْرَۃُ الْحَمْدِ “ اس لیے ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی جامع حمد آئی ہے۔ اس کا نام ” اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ “ اس لیے ہے کہ یہ سات آیات ہیں جو ہر نماز (فرض ہو یا نفل) کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں، نماز کے علاوہ بھی کثرت سے پڑھی جاتی ہیں۔ دیکھیے سورة حجر () ۔ اس کے نام ” ام القرآن، ام الکتاب، القرآن العظیم “ اس لیے ہیں کہ اس میں مختصر طور پر قرآن مجید کے تمام بنیادی مضامین آگئے ہیں، باقی قرآن ان کی تفصیل ہے، چناچہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کمال، اس کی حمد، ثنا اور تمجید آگئی ہیں، جیسا کہ اوپر ابوہریرہ (رض) کی حدیث میں گزرا اور آگے آیات کی تفسیر میں بیان ہوگا۔ ” يَوْمِ الدِّيْنِ “ میں آخرت، ثواب و عذاب اور وعدے اور وعید کا ذکر ہے۔ ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ میں بندوں کو ایک اللہ سے مانگنے، اسی کے سامنے عاجزی کرنے، اپنی تمام عبادات زبانی ہوں یا بدنی یا مالی اسی کے لیے خاص کرنے اور اسے ہر شریک سے پاک قرار دینے کی تعلیم ہے۔ اسے ” توحید الوہیت “ کہتے ہیں، تمام پیغمبر اسی کی دعوت لے کر آئے۔ ” وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ میں اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے، اسی پر توکل کرنے اور عبادت اور دوسرے تمام معاملات میں اسی سے مدد مانگنے کی تعلیم ہے کہ اگر اس کی مدد نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ اسے ” استعانت “ کہتے ہیں۔ ” الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ “ میں شریعت کے تمام احکام، پورا اسلام اور پورا قرآن شامل ہے۔ ” اِھْدِنَا “ میں زندگی کے ایک ایک لمحہ میں راہ راست پر چلنے اور آخری دم تک بلکہ جنت میں پہنچنے تک اس پر قائم رہنے کی دعا کی تعلیم ہے۔ ” اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “ میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی تاریخ اور ان کے واقعات کی طرف اشارہ ہے اور ان جیسے اعمال صالحہ اختیار کرنے کی ترغیب ہے، تاکہ ان کے ساتھ جنت میں جاسکیں۔ ” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “ میں یہود اور ان تمام اقوام کی تاریخ کا ذکر ہے جو حق جاننے کے باوجود اس کی مخالفت پر اڑ گئے اور ” الضَّاۗلِّيْنَ “ میں نصاریٰ اور ان تمام لوگوں کے واقعات کی طرف اشارہ ہے جو راہ راست سے بھٹک گئے اور ان دونوں قسم کے لوگوں کے اعمال بد سے اجتناب کی تلقین ہے، تاکہ ان کے ساتھ جہنم میں جانے سے بچے رہیں۔ (القاسمی) ان سات آیات میں قرآن مجید کے مزید مضامین کا ذکر ہر آیت کی الگ تفسیر میں بھی آئے گا۔ (ان شاء اللہ العزیز) اس سورت کا نام ” صلاۃ “ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” میں نے صلاۃ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو نصف حصوں میں تقسیم کرلیا ہے، اس کی وضاحت سورة الفاتحہ کے ساتھ فرمائی۔ معلوم ہوا جو ” صلاۃ “ (نماز) اس ” صلاۃ “ (فاتحہ) کے بغیر ہو وہ ” صلاۃ “ (نماز) ہی نہیں، جیسا کہ عبادہ بن صامت (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرمایا : ( لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ) ” اس شخص کی کوئی نماز نہیں جو سورة فاتحہ نہ پڑھے۔ “ [ بخاری، الأذان، باب وجوب القراء ۃ للإمام۔۔ : ۔ مسلم : ] بعض لوگوں نے کہا ہے کہ پورے قرآن کے اسرار سورة فاتحہ میں، فاتحہ کے اسرار ” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ میں ” بِسْمِ اللّٰهِ “ کے اسرار اس کی باء میں اور باء کے اسرار اس کے نقطے میں آگئے ہیں۔ مگر سورة فاتحہ میں پورے قرآن کے مضامین آجانے کا یہ مطلب درست نہیں، دراصل یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جو نہ قرآن سمجھنا چاہتے ہیں نہ اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں، بلکہ اپنے ایجاد کردہ طریقوں کو قرآن کا نام دے کر مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ (المنار) سورة فاتحہ کا دوسری سورتوں سے تعلق : کائنات کی تمام چیزوں کی تخلیق، پرورش اور حفاظت ” رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ “ اور ” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ کے تحت ہیں۔ توحید کے متعلق تمام قرآنی آیات ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ کے تحت ہیں۔ ] داؤد (علیہ السلام) کے واقعہ میں اور دوسرے تمام مقامات میں عدل و انصاف کا ذکر ” مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ “ کے تحت ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی قربانی ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ کے تحت اور ان کی اور تمام انبیاء کی دعائیں ” اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ “ کے تحت ہیں۔ ایوب (علیہ السلام) کی شفا، یونس (علیہ السلام) کی نجات، ابراہیم (علیہ السلام) کا آگ میں محفوظ رہنا، زکریا (علیہ السلام) کو بڑھاپے میں اولاد ملنا وغیرہ سب ” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ کے تحت ہیں۔ ایمان دار اور متقی لوگوں کے احوال و واقعات اور ان کا نیک انجام آخری آیت کے تحت ہیں۔ اسی طرح بدکار اور سرکش لوگوں کے احوال و واقعات اور ان کا انجام بد بھی اسی آیت کے تحت ہیں۔ اسی کے مطابق دوسری تمام آیات و واقعات سمجھ لیں۔ شیطان کا تکبر کے باعث دھتکارا ہوا ہونا ” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “ کی مثال ہے۔ (بدیع التفاسیر) یہ سورت اگرچہ اللہ کا کلام ہے مگر یہ بندوں کو سکھانے کے لیے نازل ہوئی ہے کہ وہ یوں کہیں۔ دلیل اس کی گزشتہ حدیث ہے کہ بندہ یوں کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے۔ اس میں بندے کو اللہ تعالیٰ سے مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے کہ پہلے اس کی حمد و ثنا اور تمجید کی جائے، پھر اللہ تعالیٰ سے اس کا بندہ ہونے کے تعلق کا ذکر کیا جائے اور اپنی بندگی کا وسیلہ پیش کیا جائے، اس کے بعد اللہ سے مدد مانگتے ہوئے اصل مقصد کا سوال کیا جائے جو صراط مستقیم کی ہدایت کا سوال ہے، جس سے اہم کوئی سوال نہیں۔ اس لیے بعض اہل علم نے اس کا نام ” تعلیم المسئلہ “ بھی رکھا ہے، یعنی مانگنے کا طریقہ سکھانے والی سورت۔ بعض لوگ زندہ یا فوت شدہ لوگوں کے نام کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ ! فلاں کے وسیلے سے یا واسطے سے یا بحرمت فلاں میری دعا قبول فرما، یہ بدعت ہے اور قرآن و سنت سے کہیں ثابت نہیں اور اگر یہ عقیدہ رکھے کہ ان بزرگوں کا نام لیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے منوا لیتے ہیں تو یہ شرک ہے جس میں مشرکین عرب مبتلا تھے۔ دیکھیے سورة یونس () اور سورة زمر () ۔ صحیح وسیلہ جو ثابت ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے وسیلے سے دعا کرنا ہے، یا اپنے کسی صالح عمل کے وسیلے سے دعا کرنا، جیسا کہ ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ میں ہے اور جیسا کہ آل عمران () میں ایمان لانے کے وسیلے سے دعا کی گئی ہے اور غار والے تین اصحاب نے اپنے اپنے خالص عمل کے وسیلے سے دعا کی تھی۔ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار : ، عن ابن عمر ] یا کسی زندہ آدمی سے دعا کروانا، جیسا کہ صحابہ کرام (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا کروایا کرتے تھے اور عمر (رض) عباس (رض) سے بارش کی دعا کروایا کرتے تھے۔ [ بخاری، فضائل أصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، باب ذکر العباس بن عبد المطلب (رض) : ، عن أنس ] ان تین صورتوں کے سوا وسیلے کی جتنی صورتیں ہیں، کچھ بدعت ہیں اور کچھ شرک کے زمرے میں آتی ہیں، اس لیے ان سے اجتناب لازم ہے۔ ! یہ سورت بہترین دم ہے، سانپ کے زہر جیسی خطرناک بیماری اور دیوانگی جیسی مشکل سے درست ہونے والی بیماری کا دور ہونا اس کی بےانتہا شفائی تاثیر کی دلیل ہے۔ میری ہمشیرہ ایک ٹانگ سے معذور تھی اور بیساکھی کے سہارے سے چلتی تھی، اس کی تندرست ٹانگ بھی بےکار ہوگئی، سارے گھر والے سخت مصیبت میں پھنس گئے، میرے والد صاحب کو ایک عالم نے سورة فاتحہ کا دم کرنے کی تاکید کی۔ تیرھویں دن ہمشیرہ دیوار کے سہارے سے ٹانگ پر کھڑی ہوگئی اور پھر اس کی ٹانگ بالکل تندرست ہوگئی۔ تقریباً چالیس برس ہوگئے آج تک وہ بیساکھی کے ساتھ اس ٹانگ پر چلتی پھرتی ہے۔ مجھے زندگی میں دو تین دفعہ نہایت سخت بیماری پیش آئی، علاج کے ساتھ ساتھ گھر والے سورة فاتحہ کا دم کرتے رہے، اگرچہ کچھ مدت لگی مگر اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی۔ (الحمد للہ) @ ان احادیث سے قرآن کے ساتھ دم پر اجرت کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے الفاظ : ( اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا کِتَاب اللّٰہِ ) (سب سے زیادہ حق چیز جس پر تم اجرت لو، اللہ کی کتاب ہے) [ بخاری، الطب، باب الشروط فی الرقیۃ بفاتحۃ الکتاب : ] اس کی دلیل ہیں۔ کتاب اللہ کی کتابت، طباعت، جلد بندی، خریدو فروخت اور تعلیم وغیرہ پر اجرت نہایت پاکیزہ اجرت ہے۔ اہل کتاب کو جو اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی قیمت لینے پر ملامت کی گئی اس کی وجہ ان کا حق کو چھپانا اور دنیاوی مفاد کے لیے غلط فتوے دینا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (، ، ) اور آل عمران () ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ : شیخ المفسرین طبری (رض) فرماتے ہیں :” اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ادب سکھایا کہ اپنے تمام کاموں اور اہم مواقع سے پہلے اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور اس کی صفات عالیہ کا ذکر کریں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کو طریقہ سکھایا کہ اپنی گفتگو کا آغاز اور اپنے خطوط، کتابوں اور تمام ضروری کاموں کی ابتدا اسی کے ساتھ کریں، یہاں تک کہ ” بِسْمِ اللّٰهِ “ (اللہ کے نام کے ساتھ) کہتے ہوئے یہ بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں کہ اللہ کے نام کے ساتھ کیا کرنا ہے، حذف شدہ لفظ خود ہی واضح ہوتا ہے کہ میں اللہ کے نام کے ساتھ پڑھتا ہوں یا کھاتا ہوں یا فلاں کام کرتا ہوں۔ یہاں ” اسم “ (نام) ” تَسْمِیَۃٌ“ (نام لینے) کے معنی میں ہے، جیسا کہ ” کَلَامٌ“ ” تَکْلِیْمٌ“ (کلام کرنے) کے معنی میں اور ” عَطَاءٌ“ ” اِعْطَاءٌ“ (دینے) کے معنی میں ہے۔ معنی یہ ہے کہ میں اللہ کا نام لینے اور اسے یاد کرنے کے ساتھ پڑھتا ہوں (یا کوئی بھی کام کرتا ہوں) اور اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفات علیا کا نام لینے کے ساتھ قراءت (یا کسی بھی کام) کا آغاز کرتا ہوں۔ “ مختصراً لفظ ” اللّٰهِ “ اس ہستی کا علم (ذاتی نام) ہے جو سب سے بلندو برتر اور سب کا خالق ومالک ہے۔ اس لفظ کا اصل ” اِلَاہٌ“ ہے۔ الف لام لگایا تو ” اَلْاِلَاہٌ“ بن گیا۔ کثرت استعمال کی وجہ سے تخفیف کے لیے ” اِلاَہٌ“ کا ہمزہ حذف کردیا گیا اور الف لام والے لام کو ” اِلَاہٌ“ کے لام میں مدغم کردیا، ” اِلَاہٌ“ کے لام کے بعد والا الف بھی کثرت استعمال کی وجہ سے لکھنے میں ترک کردیا گیا، تو لفظ ” اللّٰهِ “ ہوگیا۔ یہ ” فِعَالٌ“ بمعنی ” مفعول “ ہے، یعنی ” اِلَاہٌ“ بمعنی ” مَأْلُوْہٌ“ ہے، یعنی وہ ذات جس کی عبادت کی جاتی ہے۔ ’ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ‘ کی تفسیر اگلی آیت میں آرہی ہے۔ ” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ سورة نمل میں بالاتفاق آیت کا جزو ہے۔ صحابہ کے اجماع کے ساتھ اسے فاتحہ اور دوسری سورتوں کے شروع میں لکھا گیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سورة توبہ کے سوا ہر سورت کا جزو ہے۔ ہر سورت کے ساتھ اس کا نازل ہونا صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے۔ عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سورت کا دوسری سے الگ ہونا اس وقت تک نہیں پہچانتے تھے جب تک آپ پر ” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ نازل نہیں ہوتی تھی۔ [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب من جھر بہا : ]
Top