Al-Quran-al-Kareem - Yaseen : 16
قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا رَبُّنَا : ہمارا پروردگار يَعْلَمُ : جانتا ہے اِنَّآ : بیشک ہم اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف لَمُرْسَلُوْنَ : البتہ بھیجے گئے
انھوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمہاری طرف ضرور بھیجے ہوئے ہیں۔
قَالُوْا رَبُّنَا يَعْلَمُ اِنَّآ اِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ :”ہمارا رب جانتا ہے“ یہ الفاظ قسم کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ بلاغت کا اصول ہے کہ سننے والا جتنی شدت کے ساتھ کسی بات کا منکر ہو اتنی ہی تاکید کے ساتھ بات کی جائے۔ پیغمبروں کا حوصلہ دیکھیے، بستی والوں کے انھیں صاف جھوٹا کہنے پر بھی وہ برا فروختہ نہیں ہوئے، بلکہ قسم کھا کر انھیں اپنی رسالت کا یقین دلانے کی کوشش کی۔
Top