Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Al-Quran-al-Kareem - Saad : 24
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ ۞
قَالَ
: (داود نے) کہا
لَقَدْ ظَلَمَكَ
: واقعی اس نے ظلم کیا
بِسُؤَالِ
: مانگنے سے
نَعْجَتِكَ
: تیری دنبی
اِلٰى
: طرف۔ ساتھ
نِعَاجِهٖ ۭ
: اپنی دنبیاں
وَاِنَّ
: اور بیشک
كَثِيْرًا
: اکثر
مِّنَ
: سے
الْخُلَطَآءِ
: شرکاء
لَيَبْغِيْ
: زیادتی کیا کرتے ہیں
بَعْضُهُمْ
: ان میں سے بعض
عَلٰي
: پر
بَعْضٍ
: بعض
اِلَّا
: سوائے
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
: جو ایمان لائے
وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ
: اور انہوں نے عمل کیے درست
وَقَلِيْلٌ
: اور بہت کم
مَّا هُمْ ۭ
: وہ ۔ ایسے
وَظَنَّ
: اور خیال کیا
دَاوٗدُ
: داؤد
اَنَّمَا
: کہ کچھ
فَتَنّٰهُ
: ہم نے اسے آزمایا
فَاسْتَغْفَرَ
: تو اس نے مغفرت طلب کی
رَبَّهٗ
: اپنا رب
وَخَرَّ
: اور گرگیا
رَاكِعًا
: جھک کر
وَّاَنَابَ
: اور اس نے رجوع کیا
اس نے کہا بلاشبہ یقینا اس نے تیری دنبی کو اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کے مطالبے کے ساتھ تجھ پر ظلم کیا ہے اور بیشک بہت سے شریک یقینا ان کا بعض بعض پر زیادتی کرتا ہے، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور یہ لوگ بہت ہی کم ہیں۔ اور داؤد نے یقین کرلیا کہ بیشک ہم نے اس کی آزمائش ہی کی ہے تو اس نے اپنے رب سے بخشش مانگی اور رکوع کرتا ہوا نیچے گرگیا اور اس نے رجوع کیا۔
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ : داؤد ؑ نے فرمایا کہ اس نے تمہاری دنبی اپنی دنبیوں کے ساتھ ملا لینے کا مطالبہ کرکے یقیناً تم پر ظلم کیا ہے۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ دیوار پھاند کر آئے، پھر انھوں نے مقدمہ پیش کرتے ہوئے اس بات کا خیال نہیں رکھا کہ وہ اس شخص سے ہم کلام ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ حکومت کا شرف بھی عطا فرمایا ہے اور جس سے حق کے خلاف یا بےانصافی پر مبنی فیصلہ کرنے کی توقع نہیں۔ اس کے باوجود وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور بےانصافی نہ کریں۔ یہ دونوں جملے ہی کسی شخص کا غصہ بھڑکانے کے لیے کافی ہیں، کجا یہ کہ ایسا کہنے والے پہلے دیوار پھاند کر آنے کی گستاخی بھی کرچکے ہوں۔ اگر کوئی دنیا دار بادشاہ ہوتا تو یہ لوگ قتل کردیے جاتے، یا کوئی اور عبرت ناک سزا پاتے، تاکہ آئندہ کسی کو ایسی جرأت نہ ہو، مگر داؤد ؑ کا صبر اور حلم دیکھیے کہ پہلے کچھ خوف زدہ ہونے کے باوجود نہ غصے میں آئے اور نہ انھیں ملامت کا ایک لفظ بھی کہا، بلکہ ان کے اس طرح آنے اور نامناسب الفاظ کہنے کو صبر سے برداشت کیا اور وہ جس مقصد کے لیے آئے تھے اسے پورا کرتے ہوئے ان کے مقدمے کا فیصلہ فرما دیا۔ یہ نبیوں ہی کا حوصلہ ہوسکتا ہے، جس کے لیے رسول اللہ ﷺ کو تلقین کی گئی کہ کفار کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد ؑ کو یاد کریں۔ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْخُلَطَاۗءِ : مظلوم کو تسلی دیتے ہوئے داؤد ؑ نے بہت سے لوگوں کے اس کی طرح مظلوم ہونے کا ذکر فرمایا کہ تم اکیلے مظلوم اور یہ اکیلا ظالم نہیں ہے، بلکہ بہت سے شریک ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں، کیونکہ جب آدمی دیکھتا ہے کہ اس کے ساتھ اور لوگ بھی مظلوم ہیں تو اسے کچھ حوصلہ ہوجاتا ہے، ”لِأَنَّ الْمُصِیْبَۃَ إِذَا عَمَّتْ طَابَتْ“ ”کیونکہ جب مصیبت عام ہوتی ہے تو برداشت ہوجاتی ہے۔“ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ایمان اور عمل صالح والے لوگ ایسا نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنے شریک پر ظلم سے اجتناب کرتے ہیں۔ اس میں ننانوے دنبیوں والے کے لیے نصیحت بھی ہے کہ وہ ظلم سے باز آجائے اور انبیاء ؑ کا یہی طریقہ ہوتا ہے۔ وَقَلِيْلٌ مَّا هُمْ : یعنی ایمان اور عمل صالح والے لوگ، جو اپنے شریک پر ظلم نہ کریں، وہ بہت ہی کم ہیں، اکثریت کا حال اس کے خلاف ہے۔ جمہوریت کے علم برداروں کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ اس مفہوم کی مزید آیات کے لیے دیکھیے سورة سبا (13) ، بقرہ (243) ، انعام (117) ، ہود (17) ، یوسف (103، 106) ، زخرف (78) ، اور سورة مائدہ (100)۔ وَظَنَّ دَاوٗدُ :”وَظَنَّ“ راجح گمان کو کہتے ہیں، قرائن سے حاصل ہونے والے یقین پر بھی ”ظن“ کا لفظ بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّآ اِلَيْهِ) [ التوبۃ : 118 ] ”اور انھوں نے یقین کرلیا کہ اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب کے سوا نہیں۔“ اور فرمایا : ([ يَظُنُّوْنَ : ظن، بدظن، بدظنی (گمان)۔][ مُّلٰقُوْا : ملاقات، ملاقات حضرات۔][ رٰجِعُوْنَ : رجع، راجع، مرجوع، رجعت پسندی۔]) [ البقرۃ : 46 ] ”جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔“ یہاں ”وَظَنَّ“ کا معنی ”شَعُرَ“ (سمجھ گیا) ہے، یا ”أَیْقَنَ“ (یقین کرلیا) ہے، کیونکہ اس کے بعد ”أَنَّ“ حرف تاکید آ رہا ہے۔ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ : یعنی داؤد ؑ کو یقین ہوگیا کہ ان لوگوں کا اس طرح دیوار پھلانگ کر آنا میری آزمائش ہے کہ میں اپنی کوتاہی پر متنبّہ ہو کر اسے ترک کرتا اور اس کی معافی مانگتا ہوں یا نہیں۔ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ : تو انھوں نے اپنے رب سے معافی مانگی اور بخشش کی دعا کی۔ وَخَرَّ رَاكِعًا وَّاَنَابَ : رکوع کا معنی جھکنا یا سر جھکانا ہے۔ ”وَخَرَّ“ زمین پر گرپڑا۔ یعنی وہ رکوع کرتے ہوئے نیچے گرگئے، مراد یہ ہے کہ وہ جھکتے ہوئے سجدے میں گرگئے۔ اس لیے بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں رکوع سے مراد سجدہ ہے۔ ”وَّاَنَابَ“ (اور انھوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا) بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ”داؤد ؑ چالیس دن سجدے میں پڑے روتے رہے، حتیٰ کہ ان کے آنسوؤں سے زمین پر سبزہ اگ آیا۔“ ایسی باتیں تردید کے بغیر لکھنے والوں پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ ایسی باتیں لکھ رہے ہیں جو نہ صرف یہ کہ قرآن یا حدیث میں نہیں آئیں بلکہ صاف عقل کے خلاف ہیں۔ چالیس دن ان کے کھانے پینے اور دوسری ضروریات زندگی، نماز اور امور مملکت کی نگرانی وغیرہ کا کیا بنا ؟ یہ نتیجہ ہے سنی سنائی بات اندھا دھند نقل کرنے کا، خواہ وہ اسرائیلی روایت ہو یا کسی اور کی بنائی ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کَفٰی بالْمَرْءِ کَذِبًا أَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ) [ مسلم، المقدمۃ : 5، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”آدمی کو جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات آگے بیان کر دے۔“ ان آیات کو سمجھنے میں اکثر لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے، جس کی وجہ مسلمانوں کا قرآن کی تفسیر میں اسرائیلی روایات پر اعتماد ہے، حالانکہ یہود کی اللہ کے پیغمبروں خصوصاً داؤد و سلیمان ؑ سے دشمنی سب کو معلوم ہے۔ اگر کوئی شخص ان روایات سے ذہن کو صاف کرلے تو آیات کا مطلب سمجھنا کچھ مشکل نہیں۔ اس لیے پہلے آیات کا مطلب بیان کیا جاتا ہے، اس کے بعد ان روایات کے متعلق مختصر سی بات ہوگی۔ ان آیات کو سمجھنے کے لیے ان سے پہلی آیات پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے : (1) یہ بات بالکل واضح ہے کہ آیات کے اس سلسلہ میں قرآن مجید داؤد ؑ کی تعریف بیان فرما رہا ہے۔ (ب) قرآن کے الفاظ یا مفہوم میں کوئی اشارہ بھی نہیں کہ یہ کوئی رمز یا کنایہ کی بات ہے، جو اللہ تعالیٰ نے داؤد ؑ کے کسی ایسے فعل پر ناراضی کے اظہار کے لیے فرمائی ہے جو شریعت کے خلاف یا فضیلت کے خلاف تھا۔ (ج) اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر نبی ﷺ کو اپنی قوم کی باتوں پر صبر کا حکم دیتے ہوئے داؤد ؑ کو نمونے کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو فرما رہے ہیں کہ اگر آپ کا سینہ اپنی قوم کے کفر سے تنگ ہوتا ہے تو صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کریں۔ ساتھ ہی داؤد ؑ کا ذکر نہایت عزت و تکریم کے ساتھ کیا ہے اور ان کی تعریف بہت بلند اوصاف کے ساتھ فرمائی ہے : 1 انھیں ”عبدنا“ (ہمارا بندہ) کہا ہے، یہ اکیلا لفظ ہی سب اوصاف پر بھاری ہے، جیسا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے متعلق فرمایا : (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ) [ بني إسرائیل : 1 ] ”پاک ہے وہ جو رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو حرمت والی مسجد سے بہت دور کی اس مسجد تک لے گیا جس کے ارد گرد کو ہم نے برکت دی۔“ پھر بتایا کہ وہ ”ذَا الْاَيْدِ“ (حق کی قوت والے تھے) ”اَوَّابٌ“ (اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے) تھے۔ ”اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ“ (ہماری طرف سے پہاڑ ان کے ہمراہ مسخر تھے، صبح و شام تسبیح کرتے تھے) ”ۙوَالطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً“ (جمع کیے پرندے بھی ان کے ہمراہ تسبیح کے لیے مسخر تھے) ”وَشَدَدْنَا مُلْكَهٗ“ (اور ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کردی) ”وَاٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ“ (اور انھیں حکمت عطا فرمائی) ”وَفَصْلَ الْخِطَابِ“ (اور فیصلہ کن گفتگو عطا فرمائی) اس کے بعد یہ واقعہ ذکر فرمایا، جس کے بعد پہلے دنیا میں انھیں عطا ہونے والا مقام ذکر فرمایا : ”يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ“ (اے داؤد ! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا) پھر اپنے ہاں ان کا مرتبہ اور آخرت میں ان کا مقام بیان فرمایا : ”وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَـزُلْفٰى“ (اور بلاشبہ اس کے لیے ہمارے پاس یقیناً بڑا قرب ہے) ! ”وَحُسْنَ مَاٰبٍ“ (اور اچھا ٹھکانا ہے)۔ ان اوصاف سے ظاہر ہے کہ داؤد ؑ اللہ تعالیٰ کے نہایت مقرّب اور محبوب پیغمبر تھے اور ایسی تمام روایات ان پر صریح بہتان اور ظلم ہیں جن سے وہ ایک عام شریف آدمی سے بھی فرو تر نظر آتے ہیں، تو پھر ان آیات کا مطلب کیا ہے اور ان دو جھگڑنے والوں کا مقصد کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ داؤد ؑ نبی تھے اور بادشاہ بھی اور یہ دونوں بہت بھاری ذمہ داریاں ہیں۔ ان کے علاوہ انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت یعنی تسبیح، ذکر الٰہی، تلاوت، قیام اللیل اور روزوں کا بہت شوق تھا، اس لیے اس کے بغیر چارہ ہی نہ تھا کہ وہ تسبیح و ذکر، نبوت کے فرائض اور بادشاہت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے اپنے اوقات تقسیم کریں۔ اس کے ساتھ یہ بھی شامل کرلیں کہ وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے، جس کے لیے انھیں لوہے کی زرہیں بنانے کا مشکل اور باریک کام کرنا پڑتا تھا، سورة سبا کی آیت (11) : (اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرْ فِي السَّرْدِ) (کہ کشادہ زرہیں بنا اور کڑیاں جوڑنے میں اندازہ رکھ) سے ان کے کام کی مشقت اور باریکی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اب نبوت، سلطنت، عبادت اور کمائی کے لیے وقت کیسے تقسیم کریں ؟ اس کے لیے انھوں نے کچھ اوقات نبوت و سلطنت اور کمائی کے امور کے لیے رکھے اور کچھ وقت عبادت کے لیے خاص کرلیا، جس میں وہ اپنے محراب (عبادت خانے) سے نہیں نکلتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ داؤد ؑ کو اس بات کا پتا چل جائے کہ جب وہ عبادت کے لیے خلوت اختیار کرتے ہیں اس وقت بھی لوگوں کے ایک دوسرے پر ایسے ظلم واقع ہوتے ہیں جن کے لیے داؤد ؑ کے عدل کی ضرورت ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان دو جھگڑنے والوں کے لیے یہ آسانی پیدا فرمائی کہ دروازے بند ہونے اور پہرے داروں کی موجودگی کے باوجود وہ دیوار پھاند کر ان کے عبادت خانے میں داخل ہوگئے اور ان میں سے ایک نے اپنا قصہ سنایا اور وہ ظلم بیان کیا جو اس کے بھائی نے اس پر کیا تھا کہ کس طرح وہ بہت دولت مند اور ننانوے دنبیوں کا مالک ہونے کے باوجود اپنے فقیر بھائی سے، جو صرف ایک دنبی کا مالک ہے، اس کی واحد ملکیت بھی بہت سختی کے ساتھ اپنے سپرد کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ داؤد ؑ ان کے اس طرح آنے پر پہلے گھبرائے، مگر جب حقیقت حال معلوم ہوئی تو نہ ان سے ناراض ہوئے اور نہ انھیں پھر آنے کی تاریخ دی، بلکہ ان کا مقدمہ سن کر فوراً فیصلہ فرما دیا۔ ساتھ ہی سمجھ گئے کہ عبادت والے دن بھی لوگوں کے درمیان جھگڑے اور ایک دوسرے پر ظلم ہوتے ہیں، مگر ان کے عبادت میں مصروف ہونے کی وجہ سے مظلوم ان کے پاس فریاد لے کر نہیں پہنچ سکتے، حالانکہ لوگوں کے درمیان صلح اور مظلوم کی مدد عبادت خانے کی خلوت سے افضل ہے اور انھیں یقین ہوگیا کہ ان لوگوں کے اس طرح آنے سے اللہ تعالیٰ نے میری آزمائش کی ہے کہ میں یہ بات سمجھتا ہوں یا نہیں کہ عبادت میں ایسی مصروفیت نہیں ہونی چاہیے کہ مظلوم کو عدالت تک رسائی نہ ہو سکے۔ اس لیے انھوں نے اپنی اس کوتاہی پر اپنے رب سے معافی مانگی اور اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے سجدے میں گرگئے، تو ہم نے انھیں معاف کردیا۔ اکثر مفسرین نے داؤد ؑ کی کوئی ایسی غلطی تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو ننانوے دنبیوں اور ایک دنبی کے واقعہ سے ملتی جلتی ہو۔ حالانکہ یہ واقعہ انتہائی ظلم اور مظلومیت کی ایک تصویر ہے کہ ایک بہت دولت مند شخص اپنے فقیر بھائی سے اس کی ایک دنبی بھی چھین لینا چاہتا ہے اور حاکم وقت دروازے بند کرکے عبادت میں مصروف ہے، اب مظلوم کیا کرے ؟ بعض لوگوں نے کہا، وہ دوسرے دن پیش ہوسکتے تھے، مگر سب جانتے ہیں کہ انصاف میں تاخیر بھی ظلم کے مترادف ہوتی ہے۔ دیوار پھاند کر جانے سے اور قصہ سنانے سے داؤد ؑ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے، جس کا کام لوگوں کے فیصلے کرنا ہے۔ عبادت کریں، مگر اس طرح نہیں کہ فریادی آپ کی عدالت میں بار نہ پاسکیں، فرمایا : (يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاس بالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ) [ ص : 26 ] ”اے داؤد ! بیشک ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، سو تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر اور خواہش کی پیروی نہ کر، ورنہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ یقیناً وہ لوگ جو اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے، اس لیے کہ وہ حساب کے دن کو بھول گئے۔“ ”خلیفہ“ سے مراد حاکم ہے، جو پہلے لوگوں کی جگہ حکمران بنتا ہے، ”اللہ کا خلیفہ“ کہنا درست نہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (30)۔ بعض لوگوں نے ان دو جھگڑنے والوں کو فرشتے بتایا ہے اور لکھا ہے کہ داؤد ؑ نے فیصلہ کیا تو وہ ہنس پڑے اور غائب ہوگئے۔ یہ ساری بات ہی بےاصل ہے، جس کا قرآن و حدیث میں کوئی وجود نہیں۔ داؤد ؑ کی غلطی نکالتے ہوئے اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ ایک عورت کو نہاتے ہوئے دیکھ کر اس پر عاشق ہوگئے اور اس کے خاوند ”اور یاہ“ کو جہاد میں ایسی جگہ مقرر کرنے کا حکم دیا جہاں وہ قتل ہوگیا تو اس کی بیوی سے نکاح کرلیا، حالانکہ ان کی ننانوے بیویاں موجود تھیں۔ بعض نے کہا، اس سے طلاق دینے کا تقاضا کیا، جسے وہ ٹھکرا نہ سکا، تو اس سے نکاح کرلیا۔ یہودی ملعون یہاں تک پہنچ گئے کہ انھوں نے داؤد ؑ پر بہتان باندھتے ہوئے تورات میں بھی تحریف کردی اور کہا کہ انھوں نے اور یاہ کی بیوی کو نہاتے ہوئے دیکھ کر اٹھوا لیا اور (نعوذ باللہ) اس سے ہم بستر ہوئے، جس سے وہ حاملہ ہوگئی، پھر اس کے خاوند کو جنگ میں بھیج کر مروا دیا اور اس کی عدت ختم ہونے کے بعد اسے اپنی بیوی بنا لیا، جس سے لڑکا پیدا ہوا، جس سے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوا۔ (خلاصہ سموئیل دوم، باب 11، فقرہ 2 سے 27 تک) بعض حضرات نے داؤد ؑ کی یہ غلطی نکالی ہے کہ انھوں نے صرف مدّعی کی بات سن کر فیصلہ کردیا، جب کہ انھیں دوسرے فریق کی بات سننا بھی ضروری تھا۔ حالانکہ وہاں اختصار کے لیے دوسرے فریق کی بات کا ذکر نہیں ہوا۔ کسی بات کے ذکر نہ ہونے سے اس کی نفی نہیں ہوتی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے خاموش رہ کر مظلوم کے دعویٰ کو قبول کرلیا ہو۔ یہ اور اس جیسی کئی فضول باتیں بعض مفسرین نے داؤد ؑ پر بہتان باندھتے ہوئے لکھی ہیں، جب کہ اسرائیلی روایات پر اعتماد جائز ہی نہیں، خصوصاً جب ان سے کسی پیغمبر کی عزت و عصمت پر حرف آتا ہو۔ اس معاملے میں مفسر ابن کثیر ؓ کا کلام بہت عمدہ ہے، وہ لکھتے ہیں : ”قَدْ ذَکَرَ الْمُفَسِّرُوْنَ ھَاھُنَا قِصَّۃً أَکْثَرُھَا مَأْخُوْذٌ مِّنَ الإِْسْرَاءِیْلِیَّاتِ وَلَمْ یَثْبُتْ فِیْھَا عَنِ الْمَعْصُوْمِ حَدِیْثٌ یَجِبُ اتِّبَاعُہُ وَلٰکِنْ رَوَی ابْنُ أَبِيْ حَاتِمٍ ھُنَا حَدِیْثًا لَا یَصِحُّ سَنَدُہُ ، لِأَنَّہُ مِنْ رِوَایَۃِ یَزِیْدَ الرُّقَاشِيِّ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ ، وَ یَزِیْدُ وَ إِنْ کَانَ مِنَ الصَّالِحِیْنَ ، لٰکِنَّہُ ضَعِیْفُ الْحَدِیْثِ عِنْدَ الْأَءِمَّۃِ ، فَالْأَوْلٰی أَنْ یُّقْتَصَرَ عَلٰی مُجَرَّدِ تِلَاوَۃِ ھٰذِہِ الْقِصَّۃِ وَ أَنْ یُّرَدَّ عِلْمُھَا إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ الْقُرْآنَ حَقٌّ وَمَا تُضَمِّنُ فَھُوَ حَقٌّ أَیْضًا“ ”مفسرین نے یہاں ایک قصہ ذکر کیا ہے، جس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے لیا گیا ہے اور اس کے متعلق معصوم (نبی کریم ﷺ سے کوئی حدیث ثابت نہیں، جس کی پیروی واجب ہو۔ لیکن ابن ابی حاتم نے یہاں ایک حدیث بیان کی ہے جس کی سند صحیح نہیں، کیونکہ وہ یزید رقاشی کی روایت سے ہے، جو وہ انس ؓ سے بیان کرتے ہیں۔ یزید اگرچہ نیک لوگوں سے ہے، لیکن وہ ائمہ حدیث کے نزدیک ضعیف الحدیث ہے۔ سو بہتر یہ ہے کہ اس قصے کی صرف تلاوت پر اکتفا کیا جائے اور اس کا علم اللہ عز و جل کی طرف لوٹا دیا جائے، کیونکہ قرآن حق ہے اور جو کچھ اس میں ہے، وہ بھی حق ہے۔“
Top