Al-Quran-al-Kareem - Saad : 4
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور انھوں نے اس پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافروں نے کہا یہ ایک سخت جھوٹا جادوگر ہے۔
وَعَجِبُوْٓا اَنْ جَاۗءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ : یعنی انھیں اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ ان کے پاس ڈرانے اور خبردار کرنے کے لیے اسے بھیجا گیا جو ان کی جنس انسان سے ہے، ان کی قوم عرب سے ہے اور ان کے قبیلے قریش سے ہے، حالانکہ عجیب بات تو اس وقت ہوتی جب کوئی فرشتہ یا عجمی ان کی طرف بھیجا جاتا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (164) ، توبہ (128) اور سورة یونس (2) کی تفسیر۔ وَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌ : ”کَفَرَ یَکْفُرُ“ کا معنی انکار بھی ہے اور چھپانا بھی۔ یہاں ”وَقَالُوْا“ (اور انھوں نے کہا) کے بجائے ”وقال الکفرون“ (اور کافروں نے کہا) کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا رسول اللہ ﷺ کو ساحر اور کذّاب کہنا محض ان کے حق کو چھپانے اور جانتے بوجھتے ہوئے اس کے انکار کی وجہ سے ہے، ورنہ یہ تو آپ کو صادق اور امین کہتے تھے۔ دیکھیے سورة یونس کی آیت (16) : (فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ) اور سورة انعام (33) کی تفسیر۔
Top