Al-Quran-al-Kareem - At-Tahrim : 10
وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ
وَضَرَبَ اللّٰهُ : اور بیان کی اللہ نے مَثَلًا : ایک مثال لِّلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے اٰمَنُوا : جو ایمان لائے امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ : فرعون کی بیوی کی اِذْ قَالَتْ : جب وہ بولی رَبِّ ابْنِ : اے میرے رب۔ بنا لِيْ عِنْدَكَ : میرے لیے اپنے پاس بَيْتًا : ایک گھر فِي الْجَنَّةِ : جنت میں وَنَجِّنِيْ : اور نجات دے مجھ کو مِنْ : سے فِرْعَوْنَ : فرعون (سے) وَعَمَلِهٖ : اور اس کے عمل سے وَنَجِّنِيْ : اور نجات دے مجھ کو مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگوں سے۔ ظالم قوم سے
اور اہل انجیل پر لازم تھا کہ اس (قانون) کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو کوئی اللہ کے نازل کئے ہوئے (قانون) کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔
[38] آیات 47-44 صفحہ 252/254 میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو اس کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، تین بڑے جرائم کا مرتکب قرار دیا ہے۔ اولاً یہ کہ وہ کافر ہیں کیونکہ ان کا یہ فعل حکم الٰہی کے انکار کا ہم معنی ہے اور یہ کفر ہے ثانیاً یہ کہ وہ ظالم ہیں کہ ان کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے کیونکہ عدل کے مطابق حکم تو اللہ تعالیٰ نے دے دیا تھا اس لئے جب اس کے حکم سے ہٹ کر فیصلہ کیا تو ظلم کیا۔ ثالثاً یہ کہ وہ فاسق ہیں کیونکہ اللہ کے قانون سے منحرف ہو کر اپنا یا دوسرے کا قانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی اور اطاعت کی حد سے تجاوز کیا اور یہی فسق ہے۔ آج کل کے مسلمانوں کو ان آیات کی روشنی میں اپنے ایمان و عمل کا جائزہ لینا چاہئے۔
Top