Anwar-ul-Bayan - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے سارے جہانوں کا
سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اوّل کی تین آیات میں اللہ پاک کی تعریف اور اسم ذات اور اللہ پاک کی بڑی بڑی صفات ذکر کی گئی ہیں جو دیگر صفات کمالیہ کو بھی شامل ہیں۔ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں۔ اس دعویٰ کو واضح اور ثابت کرنے میں مذکورہ صفات کو بڑا دخل ہے یعنی جو ذات پاک ایسی ایسی صفات سے متصف ہے ظاہر ہے کہ ہر تعریف کی مستحق ہے۔ جتنی تعریفیں آج تک ہوئی ہیں یا آئندہ دنیا و آخرت میں ہوں گی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تعریف کسی نے کی ہے یا آئندہ کوئی کرے گا اس کا اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہونا تو ظاہر ہے اور جو تعریفیں اس کی مخلوق کی کی جاتی ہیں یا آئندہ کی جائیں گی یا گزشتہ تمام زمانوں میں ہوچکی ہیں وہ بھی درحقیقت اللہ پاک کی ہی تعریفیں ہیں کیونکہ ہر صاحب کمال کو اس نے وجود بخشا ہے اور کمال سے نوازا ہے اور کمال اور صاحب کمال کی پرورش فرمائی ہے اور اپنی رحمت سے ان کمالات کو باقی رکھا ہے۔ لِلّٰہِ میں لام اختصاص اور استحقاق کے لیے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ محمود حقیقی اور مستحق حمد اللہ تعالیٰ ہی ہے اگر کوئی اللہ کی حمد نہ کرے تو اس کی محمودیت حقیقیہ میں ذرا فرق نہیں آتا۔ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کا معنی اور مطلب : رَبٌّ عربی زبان میں بمعنی مالک آتا ہے اور بمعنی پروردگار (پالنے والا) بھی آتا ہے (معالم التنزیل) یہاں دونوں معنی درست ہیں۔ اللہ پاک تمام جہانوں کے مالک ہیں اور پالنے والے بھی۔ الْعٰلَمِیْنَ عالم کی جمع ہے۔ عالم (بروزن فاعل بفتح العین) علم سے لیا گیا ہے۔ عربی قاعدہ کی رو سے فاعل کا وزن مادۂ اشتقاق کے آلہ کے لیے آتا ہے عالم کا مادۂ اشتقاق علم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق عالم ہے۔ اس لیے کہ اپنے خالق (پیدا کرنے والے) کے معلوم ہونے کا ذریعہ ہے۔ یوں تو ساری مخلوق بہ حیثیت مخلوق کے ایک عالم ہے لیکن مخلوق کی بیشمار قسمیں ہیں۔ ہر قسم کو علیحدہ علیحدہ عالم قراد دیکر جمع (عالمین) لائی گئی گویا اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خدائے پاک کے جاننے اور پہچاننے کے لیے ایک عالم (بلکہ اس کا ایک ذرہ بھی) کافی ہے لیکن عالم اتنے زیادہ اور بیشمار ہیں کہ ان کو دیکھ کر اگر کوئی کوڑھ مغز بد باطن خدائے پاک کو نہ پہچانے تو اس کی محرومی، بدنصیبی، جہالت کی بھی تردید ہے جو بعض مخلوقات کو معبود مانتے ہیں اور خالق کو چھوڑ کر مخلوق و مملوک کے سامنے جبین نیاز رکھتے ہیں۔ مقاتل بن حیان نے فرمایا کہ عالم اسی ہزار ہیں، چالیس ہزار خشکی میں اور چالیس ہزار سمندر میں۔ حضرت وہب بن منبہ (رض) نے فرمایا کہ عالموں کی تعداد اٹھارہ ہزار ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جو جناب کعب الاحبار نے فرمائی کہ عالموں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا انہوں نے اپنے استدلال میں یہ آیت تلاوت فرمائی : (وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ الاَّ ھُوَ ) (معالم التنزیل ص ٤٠ ج ١) اللہ جل شانہ، سارے جہانوں کا خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ اور پرورش کرنے والا بھی اس نے صرف وجود ہی نہیں دیا بلکہ مخلوق کو زندہ رکھنے کے اسباب بھی پیدا فرمائے۔ وہ رزق بھی دیتا ہے کھلاتا پلاتا بھی ہے ہر فرد تک رزق پہنچاتا ہے۔ جب کھانے والارزق کھا لیتا ہے تو وہ اس رزق کو پچاتا ہے۔ جس سے جسم بڑھتا ہے خون پیدا ہوتا ہے رگوں میں دوڑتا ہے اور یہ سب بقائے حیات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جتنے بھی اسباب معاش ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائے ہیں۔ ان سب سے شان ربوبیت اچھی طرح واضح ہوتی ہے۔ نئی نئی تحقیقات سے اجسام کے پلنے بڑھنے کے جو راز منکشف ہوئے ہیں انسانی عقل و شعور کے لیے بہت حیرت ناک ہیں۔ زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں کو دیکھا جائے۔ طرح طرح کے غلے پھل اور میوے مختلف سبزیاں ترکاریاں وجود میں آرہی ہیں انسان اور جانور ان کو کھاتے ہیں اور پرورش پاتے ہیں۔ جس کا جو رزق مقرر ہے وہ اس کو ضرور پہنچ کر رہتا ہے ایک براعظم کی پیدا شدہ چیزیں دوسرے براعظم کے لوگ کھاکر اور استعمال کرکے جی رہے ہیں۔ پالنے کے مفہوم میں صرف جسمانی، غذائیں ہی نہیں آتیں بلکہ ہر وہ چیز آجاتی ہے جو زندگی اور بقا کا ذریعہ ہو۔ اجسام کی پرورش کے ساتھ روح کی پرورش بھی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو زندگی کے لیے اصل چیز ہے اور جو معیشت کے آلات اور اسباب ہیں اور جو جسم کے اعضاء اور جوارح ہیں۔ یہ سب پرورش کا ذریعہ ہیں۔
Top