بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Anwar-ul-Bayan - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
قسم ہے قرآن کی جو نصیحت والا ہے،
منکرین توحید و مکذبین رسالت کے لیے وعید صٓ یہ حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنی اللہ کو ہی معلوم ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ابتدائی آیات کا سبب نزول معلوم کرلینا چاہیے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب ابو طالب بیمار ہوئے تو ان کے پاس قریش مکہ آئے اور رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لائے۔ قریش نے ابو طالب سے شکایت کی (کہ تمہارا بھتیجا ایسی ایسی باتیں کرتا ہے) ابو طالب نے آپ سے پوچھا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو۔ آپ نے فرمایا کہ میں ان کے سامنے ایک کلمہ پیش کرتا ہوں وہ اسے قبول کرلیں تو سارا عرب ان کا فرمانبردار ہوجائے گا اور عجمی لوگ ان کو جزیہ دیا کریں گے ابو طالب نے کہا کہ صرف ایک کلمہ کہلوانا چاہتے ہو ؟ فرمایا ہاں بس ایک کلمہ ! پھر آپ نے فرمایا اے چچا (لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ ) کہہ لو ! قریش مکہ جو وہاں حاضر تھے انہوں نے کہا کیا ایک ہی معبود کو مان لیں ؟ ہم نے تو یہ بات اس سے پہلے کسی مذہب میں نہیں سنی یہ تو اپنے پاس سے بنائی ہوئی ہے، لہٰذا ان کے بارے میں قرآن مجید نازل ہوگیا یعنی (صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ ) سے لے کر (اِنْ ھٰآا الاَّ اخْتِلاَقٌ) تک آیات نازل ہوگئیں۔ (رواہ الترمذی اوائل سورة ص قال ھذا حدیث حسن صحیح) (وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ ) (قسم ہے قرآن کی جو نصیحت والا ہے) کافر لوگ جو قرآن کو اور آپ کو جھٹلا رہے ہیں ان کی بات غلط ہے۔
Top