Anwar-ul-Bayan - Saad : 15
وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
وَمَا يَنْظُرُ : اور وہ انتظار نہیں کرتے هٰٓؤُلَآءِ : یہ لوگ اِلَّا : مگر صَيْحَةً : چنگھاڑ وَّاحِدَةً : ایک مَّا لَهَا : جس کے لیے نہیں مِنْ : کوئی فَوَاقٍ : ڈھیل
اور یہ لوگ بس ایک زور دار چیخ کے انتظار میں ہیں جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی
اہل مکہ کو جب یہ بات بتائی جاتی تھی کہ انکار اور تکذیب پر عذاب آجایا کرتا ہے اور پہلی قومیں کفر پر جمے رہنے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوچکی ہیں تو اس کا مذاق بناتے تھے اور اطمینان کے ساتھ دنیاوی اعمال میں مشغول رہتے تھے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ یہ لوگ بس اسی انتظار میں ہیں کہ ایک چیخ آجائے یعنی صور پھونک دیا جائے گا اس وقت جو چیخ ہوگی وہ رکنے والی نہ ہوگی سمجھداری اسی میں ہے کہ قیامت آنے سے پہلے ہی ایمان قبول کرلیں اور اپنا حال درست کرلیں۔ اور علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ ایسا ہی ہے جسے سورة یٰسین میں فرمایا ہے، (مَا یَنظُرُونَ اِِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً تَاْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُوْنَ ) (یہ لوگ ایک ایسی سخت آواز کے منتظر ہیں جو انہیں آکر پکڑے گی اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے) (فَلاَ یَسْتَطِیعُوْنَ تَوْصِیَۃً وَّلاَ اِِلٰی اَھْلِہِمْ یَرْجِعُوْنَ ) (سو نہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف جاسکیں گے) علامہ قرطبی سورة ص کی آیت کا مطلب بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اب غزوہ بدر کے واقعہ کے بعد انہیں یہی انتظار ہے کہ قیامت قائم ہوجائے ان کو چاہیے تھا کہ بدر کے واقعہ سے عبرت حاصل کرلیتے اور اہل ایمان کے غلبہ سے سے سبق لے کر خود بھی مومن ہوجاتے قیامت قائم ہوگی تو دم مارنے کی گنجائش نہ ہوگی اور ذرا سی بھی مہلت نہ دی جائے گی، قیامت کو مانتے بھی نہیں اور ڈھنگ ایسا ہے جیسے وہاں کے لیے بہت کچھ کیا ہو اور عذاب کی بھی بد دعاء کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب حساب کے دن سے پہلے ہمارا حصہ ہمیں دیدے۔ 1 ؂ یعنی قیامت کے دن کا انتظار کیوں ہے ہمیں جو عذاب دینا ہے ابھی آجائے، بات یہ ہے کہ انہیں قیامت آنے کا یقین نہیں تھا ورنہ اپنے منہ سے کون عذاب مانگتا ہے۔ 1 ؂ (قولہ تعالیٰ ” ما لھا من فَوَاقٍ “ بفتح الفاء صمھا فی السبعیۃ وھو ما بین الحلبتین لانھام ثم تترک سریعہ یرضعھا الفصیل لتدر ثم تحلب قال الفراء وابو عبیدۃ وغیرھما من فواق بفتح الفاء أی راحۃ لا یفیقون فیھا کما یفیق المریض والمغشی علیہ، من فواق بضم الفاء من انتظار، والقط فی کلام العرب الحظ والنصیب او القط اسم للفطعۃ من الشئ کالقسم والقسم فاطلق علی النصیب والکتاب والرزق لقطعۃ عن غیرہ الا أنہ فی الکتاب اکثر استعمالاً وأقوی حقیقۃ (المتقطا من القرطبی ص 156: ج 15 ص 157) اللہ تعالیٰ کا ارشاد مالَھَامِنْ فَواقٍ یہ فَوَاق فا کے فتحہ کے ساتھ اس وقفہ کو کہتے ہیں جو دو دفعہ دوہنے کے درمیان ہوتا ہے کہ پہلے دودھ دوھ کر تھوڑا سا چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ بچہ تھنوں کو چوسے تو دوبارہ دودھ اتر آئے اور پھر دوسری دفعہ دوھ لیں فراء اور ابو عبیدہ وغیرہ کہتے ہیں فَوَاق فاء کے فتحہ کے ساتھ یعنی ایسی راحت و سکون جس میں افاقہ نہ ہوگا جیسے مریض کو افاقہ ہوتا ہے یا بےہوش کو، اور فُوَاق فاء کے ضمہ کے ساتھ انتظار کے معنی میں ہے۔ اور ” فط “ کلام عرب میں حصہ اور نصیب کو کہتے ہیں یا ” القط “ کسی شی کے ٹکڑے کو کہتے ہیں القسم اور القسم پھر اس کا اطلاق حصہ پر کیا گیا وہ کتاب اور رزق جو الگ کرلیا گیا ہو ان پر بھی بولا جاتا ہے مگر کتاب کے معنی میں اس کا استعمال زیادہ ہے اور حقیقت کے لحاظ سے قط بمعنی کتاب زیادہ قوی ہے۔
Top