Anwar-ul-Bayan - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ : آپ صبر کریں عَلٰي : اس پر مَا يَقُوْلُوْنَ : جو وہ کہتے ہیں وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عَبْدَنَا : ہمارے بندے دَاوٗدَ : داؤد ذَا الْاَيْدِ ۚ : قوت والا اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : خوب رجوع کرنے والا
یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور ہمارے بندہ داؤد کو یاد کیجیے جو قوت والے تھے بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے
حضرت رسول اکرم ﷺ کو تسلی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ کو مشرکین کی باتوں سے رنج ہوتا تھا، آیت بالا میں آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ ہمارے بندۂ داؤد کو یاد کیجیے جو قوت والے تھے اور فرمایا کہ وہ اواب تھے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے، پھر ان کی تسبیح کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرو اور پرندوں کو بھی حکم دیا تھا جو جمع ہوجاتے تھے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے یعنی اس کے ذکر میں مشغول رہتے تھے سورة سبا کے دوسرے رکوع میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے اس کی مراجعت کرلی جائے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان کا ملک مضبوط کردیا تھا اور انہیں حکمت یعنی نبوت دی تھی اور فصل الخطاب سے نوازا تھا یعنی وہ ایسی تقریر کرتے تھے جو خوب واضح ہوتی تھی، سننے والے اچھی طرح سمجھ لیتے تھے۔ اس کے بعد آئندہ آیات میں ان کا ایک واقعہ ذکر فرمایا جس میں ان کے صبر کا تذکرہ ہے اور اسی نسبت سے (اصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ ) کے ساتھ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یاد کرنے کا حکم دیا۔
Top