Anwar-ul-Bayan - Saad : 22
اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ
اِذْ دَخَلُوْا : جب وہ داخل ہوئے عَلٰي : پر۔ پاس دَاوٗدَ : داؤد فَفَزِعَ : تو وہ گھبرایا مِنْهُمْ : ان سے قَالُوْا : انہوں نے کہا لَا تَخَفْ ۚ : خوف نہ کھاؤ خَصْمٰنِ : ہم دو جھگڑنے والے بَغٰى : زیادتی کی بَعْضُنَا : ہم میں سے ایک عَلٰي بَعْضٍ : دوسرے پر فَاحْكُمْ : تو آپ فیصلہ کردیں بَيْنَنَا : ہمارے درمیان بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ وَلَا تُشْطِطْ : اور زیادتی (بےانصافی نہ) کریں وَاهْدِنَآ اِلٰى : اور ہماری رہنمائی کریں طرف سَوَآءِ : سیدھا الصِّرَاطِ : راستہ
جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تو وہ ان کے آنے سے گھبرا گئے انہوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ہم دو اہل معاملہ ہیں ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے سو آپ حق کے ساتھ ہمارے درمیان فیصلہ کردیجیے، اور بےانصافی نہ کیجیے اور ہمیں سیدھی راہ بتا دیجیے
حضرت داؤد (علیہ السلام) کا مبتلائے امتحان ہونا پھر استغفار کرنا اب رہی یہ بات کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے جب صبر کے ساتھ مدعی اور مدعی علیہ کی بات سنی اور فیصلہ فرما دیا جو صحیح فیصلہ تھا تو اس میں وہ کون سی بات تھی جو ان کے امتحان کا سبب بن گئی ؟ اس کے بارے میں بعض حضرات نے یہ فرمایا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے مدعی کی بات سن کر مدعی علیہ سے دریافت کیے بغیر جو یہ فرما دیا کہ اس شخص نے تجھ پر ظلم کیا کہ اپنی دنبیوں میں ملانے کے لیے تیری دنبی ملانے کا سوال کیا اس میں فریقین میں سے ایک کی جانب جھکاؤ معلوم ہوتا ہے جو آداب قضاء کے خلاف ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ مدعی علیہ نے اس بات کا اقرار کرلیا تھا کہ واقعی میں نے اس شخص سے یہ سوال کیا ہے کہ اپنی دنبی مجھے دیدے اگر یہ صورت ہو تو پھر بھی یہ بات رہ جاتی ہے کہ قاعدہ کے مطابق مدعی علیہ سے فرمانا چاہیے تھا کہ تو نے اس پر ظلم کیا ہے بجائے اس سے خطاب کرنے کے مدعی سے فرمایا کہ اس شخص نے تجھ پر ظلم کیا یہ بھی ایک قسم کی مدعی کی تھوڑی سی طرف داری ہوئی جب یہ خیال آیا تو انہوں نے اسے امتحان کی بات سمجھا، بڑوں کی بڑی باتیں ہیں معمولی بات میں بھی ان کی گرفت ہوجاتی ہے اس لیے وہ استغفار کی طرف متوجہ ہوئے اور سجدہ میں گرپڑے اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرما دیا کہ ان کے لیے ہمارے ہاں نزدیکی ہے اور اچھا انجام ہے۔ یہ دونوں شخص جو مقدمہ لے کر آئے تھے اس کی واضح تصریح نہیں ملتی کہ یہ کون تھے ؟ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے (جو بےسند ہے) کہ یہ دونوں حضرت جبرائیل اور میکائیل ( علیہ السلام) تھے، اندر جانا چاہا تو چوکیداروں نے روکا، لہٰذا وہ دیوار کود کر ان کے پاس محراب میں تشریف لے گئے، یہ بات بعید نہیں ہے کہ یہ دونوں فرشتے ہوں کیونکہ اونچی دیوار تھی، پھلانگ کر تنہائی میں پہنچ جانا انسان کا کام نہیں ہے لیکن اگر یہ حضرات فرشتے تھے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرشتوں کا دنبیوں سے کیا واسطہ اور جھگڑے سے کیا تعلق ! ملا اعلیٰ والے دنبیوں کے بارے میں کیوں جھگڑا کرنے لگے اور ننانوے دنبی والے نے ایک دنبی والے سے مطالبہ کیوں کیا کہ یہ ایک دنبی بھی مجھے دیدے اور نہ صرف یہ کہ سادگی کے ساتھ مطالبہ کیا بلکہ سختی کو استعمال کیا اگر یہ دونوں فرشتے تھے تو انہوں نے جھگڑا کیا تو وہ بھی حقیر دنیا کے لیے اور اگر جھگڑا ہوا ہی نہیں تھا تو حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں یہ بات کیوں کہی کہ ہمارا آپس میں جھگڑا ہوا ہے یہ تو کذب بیانی ہوئی اور جھوٹا بیان ہوا جو گناہ کبیرہ ہے اور فرشتے تو ہر گناہ سے پاک ہیں۔ مفسرین نے اس کا یہ جواب لکھا ہے کہ یہ جھگڑا اور دعویٰ کسی حقیقت واقعیہ پر مبنی نہیں تھا بلکہ بطور فرض انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا تھا جس سے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو متنبہ کرنا مقصود تھا اس کے ذریعہ انہوں نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو امتحان میں ڈالنے کا ایک راستہ تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) جس فتنہ میں مبتلا کیے گئے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ سے یوں نقل کیا گیا ہے جسے محدث حاکم نے مستدرک میں لکھا ہے کہ داؤد (علیہ السلام) کو ان کی خود پسندی نے امتحان میں مبتلا کیا جس کی صورت حال یوں بن گئی کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا اللہ رات اور دن میں کوئی بھی ایسی خالی گھڑی نہیں گزرتی جس میں آل داؤد میں سے کوئی شخص نماز یا تسبیح یا تکبیر اور دیگر عبادات میں مشغول نہ ہوتا ہو، اللہ جل شانہٗ کو ان کی یہ بات ناگوار ہوئی اور ارشاد فرمایا کہ اے داؤد یہ سب کچھ میری ہی مدد سے ہے اگر میری مدد شامل حال نہ ہو تو تمہیں مذکورہ عبادت پر قدرت نہ ہو قسم ہے میرے جلال کی میں ایک دن تجھے تیرے ہی سپرد کرتا ہوں داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے رب مجھے وہ دن بتا دیجیے گا اس کے بعد اس خاص دن میں وہ فتنہ میں مبتلا کردئیے گئے۔ (مستدرک حاکم ص 433: ج 2 وقال صحیح الاسناد وأقرہ الذہبی) اس میں سبب فتنہ کا تو ذکر ہے لیکن فتنہ کا ذکر نہیں بعض اکابر نے فرمایا ہے کہ جتنی دیر فرشتوں سے بات چیت ہوئی اتنی دیر میں چونکہ اللہ کے ذکر سے غافل رہے اس لیے انہوں نے اسے فتنہ سمجھ لیا گو قضاء کا کام اور فیصلے دینا بھی عبادت ہے لیکن چونکہ عبادت بلاواسطہ یعنی تسبیح و تہلیل سے غفلت ہوئی اس لیے انہوں نے اسے اپنے حق میں فتنہ سمجھ لیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Top