Anwar-ul-Bayan - Saad : 23
اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ
اِنَّ ھٰذَآ : بیشک یہ اَخِيْ ۣ : میرا بھائی لَهٗ : اس کے پاس تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ : ننانوے نَعْجَةً : دنبیاں وَّلِيَ : اور میرے پاس نَعْجَةٌ : دنبی وَّاحِدَةٌ ۣ : ایک فَقَالَ : پس اس نے کہا اَكْفِلْنِيْهَا : وہ میرے حوالے کردے وَعَزَّنِيْ : اور اس نے مجھے دبایا فِي الْخِطَابِ : گفتگو میں
بیشک یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دنبی ہے سو یہ کہتا ہے کہ وہ مجھے دے دو اور بات چیت میں مجھے دباتا ہے،
شرکاء مالیات کا عام طریقہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے دو شخصوں کے درمیان جو فیصلہ فرمایا صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ ہی عام شرکاء کی ایک حالت بھی بتادی جنہیں خلطاء سے تعبیر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اس دنیا میں بسنے والے لوگ جو آپس میں مل جل کر رہتے ہیں جن میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا تجارت میں یا کسب اموال کے دوسرے طریقوں میں ساجھا رہتا ہے عام طور سے یہ لوگ ایک دوسرے پر زیادتی کرتے رہتے ہیں جو خیانت وغیرہ کی صورت میں ہوتی ہے عام طور سے لوگوں کا یہی حال ہے ہاں اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو اہل ایمان اور اعمال صالحہ والے ہیں یہ لوگ اپنے شرکاء پر زیادتی نہیں کرتے لیکن ایسے لوگ زیادہ نہیں ہیں، یہ لوگ کمی کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بہت کام کی بات بتائی اور شرکاء کا ایک مزاج بتادیا اور درحقیقت شرکت میں کوئی دھندا کرنا بہت بڑے امتحان میں پڑنے کا ذریعہ ہے بات بات میں جھگڑے بھی اٹھتے رہتے ہیں اور خیانت کے مواقع بھی سامنے آتے رہتے ہیں، جو شخص خیانت سے بچ گیا بہت ہی مبارک ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہے کہ میں دو شریکوں میں تیسرا ہوں (یعنی میری طرف سے ان کی مدد ہوتی رہتی ہے) جب تک کہ ان میں سے کوئی ایک خیانت نہ کرے پھر جب دونوں میں سے کوئی شریک خیانت کرلیتا ہے تو میں درمیان سے نکل جاتا ہوں۔ (رواہ ابو داؤد) یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد ختم ہوجاتی ہے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ایک دعاء حضرت داؤد (علیہ السلام) بہت بڑے ذاکر و عابد تھے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب داؤد (علیہ السلام) کی نماز تھی اور روزوں میں سب سے زیادہ محبوب داؤد (علیہ السلام) کے روزے تھے وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز میں کھڑے رہتے تھے اور آخری چھٹے حصہ میں سو جاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے (رواہ البخاری ص 486: ج 1) اور ایک روایت میں ہے کہ داؤد (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بےروزہ رہتے تھے اور جب دشمن سے بھڑ جاتے تھے تو پشت نہیں پھیرتے تھے۔ (ایضاً ) حضرت ابو دردا ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ داؤد (علیہ السلام) کی دعاؤں میں سے ایک یہ دعاء بھی تھی اللھم انی اسألک حبک وحب من یحبک والعمل الذی یبلغنی حبک اللھم اجعل حبک احب الی من نفسی ومالی واھلی ومن المآء البادر (اے اللہ میں آپ سے آپ کی محبت کا اور ان لوگوں کی محبت کا جو آپ سے محبت کرتے ہیں اور اس عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے آپ کی محبت تک پہنچا دے اے اللہ آپ اپنی محبت کو مجھے اتنی زیادہ محبوب بنا دیجیے جو میری جان سے اور میرے مال سے اور میرے اہل و عیال سے اور ٹھنڈے پانی سے بڑھ کر مجھے محبوب ہو۔ (رواہ الترمذی و حسنہ کما فی المشکوٰۃ ص 220) رسول اللہ ﷺ جب داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کرتے تھے تو یہ بات بیان فرمایا کرتے تھے کہ وہ انسانوں میں سب سے بڑھ کر عبادت گزار تھے۔ (ایضاً ) حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھ کے ہنر سے کسب کرتے تھے، اسی میں سے کھاتے تھے (رواہ البخاری مرفوعاً ) اور ان کا ذریعہ کسب یہ تھا کہ لوہے کی زرہیں بناتے تھے انہیں فروخت کرکے اپنا خرچہ بھی چلاتے تھے اور فقراء مساکین پر بھی خرچ کرتے تھے۔ سورۂ صٓ کا سجدہ سورة ص میں شوافع کے نزدیک سجدہ تلاوت نہیں ہے حنفیہ کے نزدیک یہاں سجدہ تلاوت ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة ص میں سجدۂ تلاوت ادا کیا اور فرمایا کہ داؤد نے توبہ کے طور پر سجدہ کیا تھا، اور ہم اس سجدہ کو بطور شکر ادا کرتے ہیں۔ (رواہ النسائی کما فی المشکوٰۃ ص 49) ایک مشہور قصہ کی تردید حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس جو دو شخص فیصلہ لے کر آئے تھے جن کا یہ فیصلہ ان کے امتحان کا سبب بنا اس کے بارے میں بعض کتابوں میں ایک ایسا قصہ لکھ دیا گیا ہے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی شان کے خلاف ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک عورت پر ان کی نظر پڑگئی تھی جس سے نکاح کرنے کا خیال پیدا ہوگیا اور اس خیال کے پیچھے ایسے پڑے کہ اس کے شوہر کو جہاد میں بھیج کر شہید کروانے کا راستہ نکالا اور جب وہ شہید ہوگیا تو آپ نے اس عورت سے نکاح کرلیا، یہ قصہ جھوٹا ہے جسے اسرائیلی روایات سے لیا گیا ہے حد یہ ہے کہ محدث حاکم نے بھی مستدرک (مستدرک ص 586، ص 587: ج 2) میں لکھ دیا اور تعجب ہے کہ حافظ ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں اسے ذکر کرکے سکوت اختیار کیا حضرت علی ؓ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص داؤد (علیہ السلام) کے بارے میں ایسی بات کہے گا اور اس کا عقیدہ رکھے گا تو میں اس پر حد قذف کی دوہری سزا جاری کروں گا یعنی ایک سو ساٹھ (160) کوڑے لگاؤں گا۔ (روح المعانی ص 158: ج 23) اور صاحب جلالین نے یوں لکھ دیا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ننانوے بیویاں تھیں اور اس شخص کی ایک بیوی تھی جس نے شکایت کی تھی۔ یہ قصہ بھی اسرائیلی روایات سے لیا گیا ہے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی شان کے خلاف بھی ہے اور کسی صحیح سند سے ثابت بھی نہیں ہے۔
Top