Anwar-ul-Bayan - Saad : 46
اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ
اِنَّآ : بیشک ہم اَخْلَصْنٰهُمْ : ہم نے انہیں ممتاز کیا بِخَالِصَةٍ : خاص صفت ذِكْرَى : یاد الدَّارِ : گھر ( آخرت کا)
بیشک ہم نے انہیں خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا جو آخرت کی یاد ہے
اس کے بعد ان کی ایک اور صفت بیان فرمائی (اِِنَّا اَخْلَصْنَاھُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرٰی الدَّارِ ) (یعنی ہم نے انہیں ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا جو آخرت کی یاد ہے۔ ) یہ حضرات خالص آخرت کے کاموں میں اور وہاں کی فکر مندی میں لگے رہتے تھے۔ تفسیر ابن کثیر میں حضرت مالک بن دینار سے اس آیت کی تفسیر نقل کرتے ہوئے لکھا ہے (نزع اللّٰہ تعالیٰ من قلوبھم حب الدنیا وذکرھا اخلصھم بحب الاخرۃ وذکرھا) (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں سے دنیا کی محبت اور اس کی یاد کو نکال دیا اور ان کے دلوں میں خالص آخرت کی محبت ڈال دی اور خالص اسی کے فکر سے آراستہ فرما دیا اور حضرت قتادہ (رح) سے نقل کیا ہے (کانوا یذکرون الناس الدار الاخرۃ والعمل لھا) (یعنی یہ حضرات دوسرے لوگوں کو آخرت یاد دلاتے تھے اور اس کے لیے عمل کرنے کی ترغیب دیتے تھے)
Top