Anwar-ul-Bayan - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
اور ان کے بڑے لوگ یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔ بلاشبہ یہ ایسی بات ہے جس میں کوئی مقصد ہے
(وَانْطَلَقَ الْمَلاَُ مِنْہُمْ ) (اور ان میں سے جو سردار تھے یوں کہتے ہوئے روانہ ہوگئے کہ یہاں سے چل دو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو) اگر یہاں اور بیٹھے رہے تو ممکن ہے کہ اس شخص کی بات ہمارے دلوں میں اثر کر جائے اور ہمیں ایک ہی معبود کو ماننا پڑے۔ (اِِنَّ ھٰذَا لَشَیْءٌ یُرَادُ ) (بیشک یہ ایسی چیز ہے جس کا ارادہ کیا جا رہا ہے) یہ بھی مشرکین کا قول ہے اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جس کی طرف ترجمہ میں اشارہ کردیا گیا ہے یعنی یہ شخص جو ہماری جماعت سے نکل کر نئی نئی باتیں کر رہا ہے اس کا کوئی مقصد ہے اور وہ یہ کہ اسے عرب و عجم کی سرداری مل جائے اور سب سے اوپر ہو کر رہے، اور بعض مفسرین نے یہ مطلب بتایا ہے کہ اس شخص کا جو کچھ دعویٰ ہے اور اس پر اس کا جو جماؤ ہے اس سے اس کو ہٹایا نہیں جاسکتا، اس کی طرف سے کسی طرح کے جھکاؤ کی امید نہیں اور تیسرا مطلب یہ بتایا ہے کہ اس شخص کا وجود اور اس شخص کی دعوت اور اس کا دعویٰ یہ بھی زمانہ کی لائی ہوئی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت ہے ہمارے پاس کوئی ایسی تدبیر نہیں کہ اس شخص کو روک دیں صبر کے گھونٹ پینے کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ (ذکرہ صاحب الروح)
Top