Anwar-ul-Bayan - Saad : 7
مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ
مَا سَمِعْنَا : ہم نے نہیں سنا بِھٰذَا : ایسی فِي : میں الْمِلَّةِ : مذہب الْاٰخِرَةِ ښ : پچھلا اِنْ : نہیں ھٰذَآ : یہ اِلَّا : مگر۔ محض اخْتِلَاقٌ : من گھڑت
ہم نے یہ بات گزشتہ مذہب میں نہیں سنی، بس یہ تو گھڑی ہوئی بات ہے،
مشرکین مکہ نے مزید کہا (مَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ ) (ہم نے یہ بات کسی دوسرے دین میں نہیں سنی) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے دین نصاری مراد ہے اس وقت تک ادیان سماوی میں وہی آخری دین تھا جس میں نصاریٰ نے تحریف و تغییر کرلی تھی اور مشرکین مکہ نصاریٰ کی باتیں سنتے رہے تھے اس لیے انہوں نے یہ بات کہی، نصاریٰ نے اپنے دین کو بدل دیا تھا توحید سے منحرف ہو کر تین خدا ماننے لگے تھے۔ ان لوگوں نے یہ بھی کہا (اِنْ ھٰذَا اِِلَّا اخْتِلاَقٌ) (یہ جو توحید والی بات کہتے ہیں بالکل ہی گھڑی ہوئی ہے) جس کو انہوں نے اپنے پاس سے بنالیا ہے، اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا (اَوْنُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْ بَیْنِنَا) (کیا نصیحت کی بات یعنی قرآن جس کے نازل ہونے کا ان کو دعویٰ ہے ہمارے درمیان سے انہیں پر نازل کیا گیا) ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم لوگ سردار ہیں مال والے ہیں بڑے لوگ ہیں اگر اللہ کی طرف سے کوئی کتاب نازل ہونی تھی تو ہم میں سے کسی پر نازل ہونی چاہیے تھی اس کی کیا خصوصیت ہے جو اس کو نبی بنایا گیا اور اس پر کتاب نازل کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (بَلْ ھُمْ فِیْ شَکٍّ مِنْ ذِکْرِیْ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ میرے ذکر کی طرف سے یہ لوگ شک میں ہیں) (بَلْ لَمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ ) (بلکہ بات یہ کہ انہوں نے میرا عذاب نہیں چکھا) یہ ساری باتیں اور موشگافیاں عذاب آنے سے پہلے پہلے ہیں، جب عذاب آجائے گا تو تصدیق کرنے پر مجبور ہوجائیں گے لیکن اس وقت کی تصدیق فائدہ نہ دے گی۔
Top