Anwar-ul-Bayan - Saad : 75
قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يٰٓاِبْلِيْسُ : اے ابلیس مَا مَنَعَكَ : کس نے منع کیا تجھے اَنْ تَسْجُدَ : کہ تو سجدہ کرے لِمَا : اس کو جسے خَلَقْتُ : میں نے پیدا کیا بِيَدَيَّ ۭ : اپنے ہاتھوں سے اَسْتَكْبَرْتَ : کیا تو نے تکبر کیا اَمْ كُنْتَ : یا تو ہے مِنَ : سے الْعَالِيْنَ : بلند درجہ والے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابلیس تجھے اس بات سے کس چیز نے روکا تو اسے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ہے کیا تو نے تکبر کیا یہ کہ تو بڑے درجے والوں میں سے ہے
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ابلیس سے فرمایا (اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ ) (کیا تو نے تکبر کیا یا یہ کہ تو بڑے درجے والوں میں سے ہے) یعنی کیا تو غرور میں آگیا اور واقع میں بڑا نہیں ہے یا کہ تو واقع میں ایسے بڑے درجہ والوں میں سے ہے جس کو سجدہ کا حکم کرنا زیبا نہیں۔ ابلیس نے کہا یہ شق ثانی ہی واقع ہے یعنی اس کو سجدہ کرنا میری شان کے لائق نہیں ہے (جس کی وجہ یہ ہے کہ) مجھے آپ نے آگ سے پیدا فرمایا ہے اور اسے کیچڑ سے پیدا فرمایا ہے۔ (لہٰذا میں اس سے بہتر ہوا اور مجھے یہ حکم دینا کہ اسے سجدہ کروں میری شان کے خلاف ہے) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا کیونکہ بلا شک تو مردود ہوگیا اور قیامت کے دن تک تجھ پر میری لعنت ہے اور جس پر قیامت کے دن تک لعنت رہے گی وہ اس کے بعد بھی ملعون ہی رہے گا کما قال اللّٰہ تعالیٰ شانہٗ (فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْنَھُمْ اَنْ لَّعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ) ابلیس کو تکبر کھا گیا۔ ملعون ہونا منظور کرلیا لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے اور معافی مانگنے کے لیے نہ ہوا بلکہ اس نے لمبی عمر ہونے کی درخواست کردی اور یوں کہا کہ اے رب مجھے اس دن تک مہلت دیجیے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے (یعنی قبروں سے نکلیں گے) روح المعانی میں لکھا ہے کہ اس سے نفخہ ثانیہ کا وقت مراد ہے مطلب ابلیس ملعون کا یہ تھا کہ مجھے لمبی زندگی دے دی جائے اور اتنی لمبی ہو کہ قیامت پر ہی ختم ہو۔ 1 ؂ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جا تجھے ایک وقت تک مہلت دی گئی اب تو اس نے اپنے نفس میں جو بات چھپا رکھی تھی وہ ظاہر کردی اور کہنے لگا کہ 1 ؂ وفی تفسیر القرطبی اراد الملعون ان لا یموت فلم یجب الی ذلک واخر الی الوقت المعلوم وھو یوم یموت الخلق فیہ فاخر الیہ تھاوناً بہ (ص 229: ج 15) (تفسیر قرطبی میں ہے کہ شیطان کی خواہش تو یہ تھی کہ اسے موت ہی نہ آئے لیکن اس کی یہ خواہش قبول نہیں ہوئی اور اسے وقت معلوم یعنی تمام مخلوق کی موت کے دن (نفخہ ثانیہ) تک اسے مہلت دینے کے لیے اس کی موت مؤخر کی گئی۔ ) اے رب آپ کی عزت کی قسم میں ان لوگوں کو (جو اس نئی مخلوق کی نسل میں ہوں گے) سب کو بہکاؤں گا کفر پر اور آپ کی نافرمانیوں پر ڈالوں گا اور برے کاموں کو اچھا بتاؤں گا مگر جن لوگوں کو آپ نے اپنی اطاعت کے لیے چن لیا اور میرے بہکانے سے بچا دیا ان پر میرا بس نہ چلے گا۔ ابلیس چونکہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے ملعون و مردود ہوا تھا اس لیے اس نے ان سے اور ان کی اولاد سے انتقام اور بدلہ لینے کا فیصلہ کیا حالانکہ حماقت اس کی تھی رب العلمین جل مجدہٗ کے حکم سے سرتابی کی ملعون ہونے کا کام خود کیا اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کیا اس کے حکم کو غلط بتایا اور ٹھان لی آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد سے بدلہ لینے کی چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ابتلاء اور امتحان کے لیے پیدا فرمایا ہے اس لیے ابلیس کو لمبی زندگی بھی دیدی اور بہکانے اور ورغلانے کی کوشش کرنے کا موقع بھی دے دیا اور انسانوں کو بتادیا کہ یہ اور اس کی ذریت تمہارے دشمن ہیں تم ان سے چوکنے رہنا، ان کے بہکاوے میں نہ آنا اور خیر اور شر کے دونوں راستے بتا دیے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور اپنی کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے پھر ان کے خلفاء کے ذریعے دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا جو شخص شیاطین کی باتوں میں آئے گا راہ حق چھوڑے گا وہ اپنی بربادی کا خود ذمہ دار بنے گا۔ ابلیس اور اس کے متبعین سے دوزخ کو بھر دیا جائے گا جب ابلیس نے کہا میں بنی آدم کو ورغلاؤں گا اور بہکاؤں گا اور راہ حق سے ہٹاؤں گا تو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ میں سچ ہی کہتا ہوں اور سچ ہی کہا کرتا ہوں (تو اپنی اور اپنے پیچھے چلنے والوں کی سزا ابھی سے سن لے) میں تجھ سے اور جو لوگ ان میں تیرا اتباع کریں گے ان سب سے دوزخ کو بھر دوں گا، یہ بات اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے بھی فرما دی اور جب آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کو زمین پر بھیجا جانے لگا اس وقت ان کو خطاب کرکے صاف صاف بتادیا (فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْن وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) (سو اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے سو جو شخص میری ہدایت کا اتباع کرے گا ان لوگوں کو کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو لوگ کفر اختیار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ فائدہ : ابلیس نے جو مہلت مانگی تھی اس میں یوں کہا تھا کہ مجھے اس دن تک مہلت دی جائے جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تجھے وقت معلوم تک مہلت ہے، یہ وقت معلوم اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے جب تک ابلیس کی موت کا وقت مقرر نہ آجائے وہ زندہ رہے گا اور کفر پر مرے گا اور دوزخ میں جائے گا۔
Top