Anwar-ul-Bayan - Saad : 86
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
آپ فرما دیجیے کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں،
دعوت حق پر کسی معاوضہ کا مطالبہ نہیں رسول اللہ ﷺ لوگوں کو قرآن مجید سناتے تھے توحید کی دعوت دیتے تھے تو لوگوں کو ناگوار ہوتا تھا آپ کی تکذیب کرتے تھے معجزات دیکھ کر بھی حق قبول نہیں کرتے تھے، انہیں ایک اور فکر کی دعوت دی ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تم سے قرآن کی باتیں سنانے پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا یہ بات تم پر واضح ہے اب تمہیں خود غور کرنا چاہیے کہ جس شخص کو ہم سے کوئی دنیاوی غرض نہیں کسی طرح کے مال و متاع کا طالب نہیں یہ بار بار ہمیں تبلیغ کیوں کرتا ہے ظاہر ہے کہ جب اسے کوئی مطلب نہیں ہے تو ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے دعوت و تبلیغ کرنے کا حکم ہوا ہے اور آپ ان سے یہ بھی فرما دیں کہ میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں یعنی ایسا نہیں ہے کہ میں نے بناوٹ کی راہ سے نبوت کا دعویٰ کردیا ہو اور غیر قرآن کو قرآن کہہ دیا ہو یہ جو کچھ تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے تم اسے نہ مانو گے تو اپنا برا کرو گے اور عنقریب موت کے بعد تمہیں پتہ چل جائے گا کہ یہ حق تھا اور اس کا انکار کرنا باطل کام تھا لیکن اس وقت معلوم ہونا فائدہ نہ دے گا، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ (بَعْدَ حِیْنٍ ) سے یوم بدر مراد ہے یعنی اس دنیا میں تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ قرآن حق ہے اور اس کا انکار کرنے والے باطل ہیں۔ فائدہ : آیت کریمہ میں جو یہ فرمایا ہے کہ آپ ان سے فرما دیں کہ میں تم سے اپنی محنت اور دعوت پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا اس میں تمام مبلغین اور داعی حضرات کو یہ بتادیا کہ دعوت الی الخیر کا کام محض اللہ کی رضا کے لیے کریں مخلوق سے کسی چیز کے طالب نہ ہوں اور امیدوار بھی نہ ہوں اور (وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِینَ ) میں یہ بتادیا کہ اہل ایمان اور خاص کر اہل علم تکلف کو اختیار نہ کریں، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو جسے کوئی چیز معلوم ہو وہ بتادے اور جسے علم نہ ہو وہ کہہ دے کہ اللہ کو معلوم (بغیر علم کے کوئی چیز نہ بتائے اور یہ ظاہر نہ کرے کہ مجھے علم ہے کیونکہ اس میں تصنع اور تکلف ہے جو جھوٹ کی ایک قسم ہے) جو چیز نہ جانے اس کے نہ جاننے کا اقرار کرلینا اور یہ کہہ دینا کہ اللہ کو معلوم ہے یہ بھی علم کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ آپ فرما دیجیے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ (صحیح بخاری 710 جلد دوم) بہت سے لوگوں کو علم نہیں ہوتا مگر اپنے نام کے ساتھ مفتی یا مولانا کا لفظ لگا لیتے ہیں یا ممتاز عالم دین کا لقب اختیار کرکے اخبارات میں اپنے نام اچھالتے رہتے ہیں پھر جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا ہے یا کوئی حدیث دریافت کی جاتی ہے تو یوں کہنا کہ مجھے معلوم نہیں اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور اپنے پاس سے کچھ نہ کچھ بتا دیتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آیت بالا میں تنبیہ ہے بہت سی باتیں جو حق اور حقیقت سے دور ہوتی ہیں جو تصنع جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں مومن آدمی کو ان سب سے بچنا لازم ہے۔ ایک عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میری ایک سوتن یعنی شوہر کی دوسری بیوی ہے کیا مجھے اس بات پر گناہ ہوگا کہ میں جھوٹ موٹ اس پر یہ ظاہر کروں کہ مجھے شوہر نے یہ دیا اور وہ دیا اور حقیقت میں نہیں دیا (تاکہ اسے جلن ہو) آپ نے فرمایا جسے کوئی چیز نہیں دی گئی اگر وہ جھوٹ موٹ یہ ظاہر کرے کہ مجھے دے دی گئی ہے وہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص جھوٹ کے کپڑے پہن لے۔ وقدتم تفسیر سورة ص فی شھر ربیع الآخر 1417 ھ والحمد للّٰہ الھاد الی سبیل الرشاد والصلوٰۃ علی نبیہ سید العباد وعلی اٰلہ وصحبہ ومن تبعھم باحسان الی یوم المعاد
Top