Anwar-ul-Bayan - Saad : 9
اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ
اَمْ : کیا عِنْدَهُمْ : ان کے پاس خَزَآئِنُ : خزانے رَحْمَةِ رَبِّكَ : تمہارے رب کی رحمت الْعَزِيْزِ : غالب الْوَهَّابِ : بہت عطا کرنے والا
کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں جو غالب ہے بخشش فرمانے والا ہے،
(اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآءِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِ الْوَھَّابِ ) (کیا ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو بہت عزت والا ہے بہت عطا فرمانے والا ہے) یعنی یہ لوگ جو یوں کہہ رہے ہیں کہ ہمیں چھوڑ کر اس شخص کو کیوں پیغمبری ملی اور اس پر قرآن کیوں نازل ہوا انہیں یہ بات کہنے اور اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں اللہ تعالیٰ شانہٗ عزیز ہے وہاب ہے وہ اپنی رحمت سے جس کسی کو جو چاہے عطا فرما دے نبوت اور رسالت بھی اس کا ایک عطیہ ہے اس نے اپنی حکمت کے مطابق جیسے چاہا نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا، ان لوگوں کو نہ کوئی اختیار ہے نہ پروردگار عالم جل مجدہٗ کے خزانوں کے مالک ہیں انہیں یہ بات کہنے کا کیا اختیار ہے کہ آپ کو نبوت کیوں نہ ملی ؟
Top