Anwar-ul-Bayan - Al-Kahf : 110
وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ
وَدَخَلَ : اور وہ داخل ہوا جَنَّتَهٗ : اپنا باغ وَهُوَ : اور وہ ظَالِمٌ : ظلم کر رہا تھا لِّنَفْسِهٖ : اپنی جان پر قَالَ : وہ بولا مَآ اَظُنُّ : میں گمان نہیں کرتا اَنْ : کہ تَبِيْدَ : برباد ہوگا هٰذِهٖٓ : یہ اَبَدًا : کبھی
اور جو کوئی بدی کماتا ہے اپنی جان پر کماتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔ (ف 1)
گناہ کی حقیقت : (ف 1) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ گناہ چونکہ ذات باری سے متعلق نہیں اور اس کا نقصان صرف انسان کی اپنی ذات تک محدود ہے ‘ اس لئے تلافی ناممکن ہے ، یہ غلط عقیدہ ہے کہ گناہ بہرحال قابل تعزیر ہے اور خدا گناہوں کو بوجہ عادل ومنصف ہونے کے بخش نہیں سکتا ، اس طرح کے عقیدے سے ایک طرف تو کامل مایوسی پیدا ہوتی ہے اور دوسری جانب خدا کی توہین لازم آتی ہے ، کیونکہ وہ قادر ومختار کریم ہر وقت ہمارے گناہوں پر خط تنسیخ کھینچ سکتا ہے ، اس کا رحم وکرم ہر آن اسے بخشش وعفو پر آمادہ کرتا رہتا ہے ۔ اس کی ادنی توجہ ہمارے دفتر عصیاں کو پاکیزہ کرسکتی ہے ، اس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ” قانون عدل و انصاف “ کی قوت اس سے زیادہ بڑی ہے ، حالانکہ عدل و انصاف کا مطلب محض خدا کا حکم و ارادہ ہے جو کہہ دے وہ انصاف ہے اور جو کر دے وہ عدل ۔ کوئی قانون وضابطہ ایسا نہیں جسے وہ ماننے کے لئے مجبور ہو ۔ وہ بےنیاز ومتعال ہے ، وہ متعنن اور قانون ساز ہے اور کوئی بات ایسی نہیں جو اس کی ذات عالیہ سے بالا ہو ۔
Top