Anwar-ul-Bayan - Yaseen : 18
قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ
قَالُوْٓا : وہ کہنے لگے اِنَّا تَطَيَّرْنَا : ہم نے منحوس پایا بِكُمْ ۚ : تمہیں لَئِنْ : اگر لَّمْ تَنْتَهُوْا : تم باز نہ آئے لَنَرْجُمَنَّكُمْ : ضرور ہم سنگسار کردیں گے تمہیں وَلَيَمَسَّنَّكُمْ : اور ضرور پہنچے گا تمہیں مِّنَّا : ہم سے عَذَابٌ : عذاب اَلِيْمٌ : دردناک
وہ بولے کہ ہم تم کو نامبارک دیکھتے ہیں اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تم کو ہم سے دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا
(36:18) قالوا۔ یعنی اہل قریہ۔ بستی والوں نے کہا۔ تطیرنا۔ ماضی جمع متکلم تطیر (تفعیل) سے ہم نے برا شگون لیا۔ ہم نے منحوس جانا۔ تطیر فلان واطیر۔ کے اصل معنی تو کسی پرندہ سے شگون لینے کے ہیں۔ پھر یہ ہر چیز کے متعلق استعمال ہونے لگا۔ جس سے برا شگون لیا جائے اور اسے منحوس سمجھا جائے۔ انا تطیرنا بکم ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ طائر بمعنی نحوست ۔ مثلاً قالوا طائرکم معکم (36:19) انہوں (رسولوں) نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ لئن۔ لام تاکید اور ان حرف شرط سے مرکب ہے۔ لم تنتھوا۔ مضارع نفی حجد بلم۔ بلم کے آنے سے نون اعرابی آخر سے ساقط ہوگیا ہے۔ انتھاء (افتعال) مصدر۔ اگر تم باز نہ آئے ۔ اگر تم باز نہیں آئو گے۔ لنرجمنکم۔ لام جواب شرط کے لئے ہے نرجمن مضارع بانون تاکید ثقیلہ صیغہ جمع متکلم ۔ رجم ورجوم مصدر (باب نصر) ہم ضرور ضرور تم کو سنگسار کردیں گے۔ الرجام پتھر۔ الرجم سنگسار کرنا۔ مرجوم جس کو سنگسار کیا گیا ہو جیسے دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے لتکونن من المرجومین (26:116) کہ تم ضرور ضرور سنگسار کر دئیے جائوگے۔ استعارہ کے طور پر رجم کا لفظ۔ جھوٹے گمان۔ تو ہم، سب وشتم اور کسی کو دھتکار دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جھوٹے گمان کے معنی میں ہے رجما بالغیب (18:22) یہ سب غیب کی باتوں میں اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں اور دھتکار دینے کے معنی میں ہے :۔ فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم (16:98) تو شیطان مردود کے وسواس سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو۔ فاخرج منھا فانک رجیم (38:77) تو بہشت سے نکل جا کہ راندہ درگاہ ہے۔ قرآن مجید میں شہب (ستاروں ) کو رجوم کہا گیا ہے رجوما للشاطین (67:5) شیاطین کو مارنے کا آلہ۔ ولیمسنکم۔ وائو عاطفہ ہے لام جواب شرط کے لئے ہے یا تاکید کے لئے۔ یمسن مضارع بانون تاکید ثقیلہ ۔ مس مصدر (باب سمع) وہ ضرور پہنچے گا (ہمارے طرف سے درد ناک عذاب)
Top