Anwar-ul-Bayan - Saad : 14
اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠   ۧ
اِنْ : نہیں كُلٌّ : سب اِلَّا : مگر كَذَّبَ : جھٹلایا الرُّسُلَ : رسولوں فَحَقَّ : پس آپڑا عِقَابِ : عذاب
(ان) سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو میرا عذاب (ان پر) آ واقع ہوا
(38:14) ان کل میں ان نافیہ ہے ان کل الا کذب الرسل ای کل کذب الرسل۔ ہر جماعت نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ فحق : فاء سببیہ ہے۔ حق ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ حق مصدر سے باب ضرب جس کا معنی واجب ہونا ہے۔ حق واجب ہوا۔ حق ہوا۔ مطابق ہوا۔ عقاب ای عقابی۔ میرا عذاب، میری طرف سے سزا۔ عاقب یعاقب کا مصدر ہے اس باب میں معاقبۃ (مفاعلۃ) سے بھی مصدر ہے۔ عقاب کے اصل معنی پیچھے ہو لینے کے ہیں۔ جیسے عقب الثانی الاول دوسرا پہلے کے پیچھے ہو لیا۔ یا عقب الیل النھار۔ رات دن کے پیچھے ہولی۔ اس اعتبار سے عقاب سزا ہوئی جو جرم کے پیچھے ہولی۔ لہٰذا اس کا ترجمہ پاداش جرم ہوا۔ فحق عقاب۔ تو (ان پر) میرا عذاب لازم ہوگیا۔
Top